توہمپرستی
لڑکیوںکیپیدائشکومنحوسسمجھنا
سوال:۔
جن گھروں میں لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں وہاں زیادہ لوگ خوش نہیں ہوتے، بلکہ رسماً ہی خوش ہوتے ہیں، لڑکوں کی پیدائش پر بہت خوشیاں منائی جاتی ہیں، کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟ کیونکہ لڑکی ہو یا لڑکا، یہ تو اللہ ہی کی مرضی ہے، لیکن جس نے لڑکی جنی اس کو تو گویا مصیبت ہی آگئی، اور وہ ’’منحوس‘‘ ٹھہرتی ہے، کیا ہم واپس جاہلیت کی طرف نہیں لوٹ رہے؟ جبکہ لڑکی کو دفن کردیا جاتا تھا۔
جواب:۔
لڑکوں کی پیدائش پر زیادہ خوشی تو ایک طبعی اَمر ہے، لیکن لڑکیوں کو یا ان کی ماں کو منحوس سمجھنا یا ان کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کرنا گناہ ہے۔(۱)
- (۱) عن سعد بن مالك ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا ھامۃ ولَا عدویٰ ولَا طیرۃ، وإن تكن الطیرۃ فی شیء ففی الدار والفرس والمرأۃ۔ رواہ ابوداوٗد۔ (مشكٰوۃ ص:۳۹۲)۔ وفی المرقاۃ: والمقصود منہ نفی صحۃ الطیرۃ علٰی وجہ المبالغۃ ۔۔۔إلخ۔ (مرقاۃ ج:۴ ص: ۵۲۴، باب الفال والطیرۃ، الفصل الثانی)۔

