توہمپرستی
اسلاممیںبدشگونیکاکوئیتصوّرنہیں
سوال:۔
عام خیال یہ ہے کہ اگر کبھی دُودھ وغیرہ گر جائے یا پھر طاق اعداد مثلاً: ۳، ۵، ۷ وغیرہ یا پھر اسی طرح دنوں کے بارے میں جن میں منگل، بدھ، ہفتہ، وغیرہ آتے ہیں، انہیں مناسب نہیں سمجھا جاتا، عام زبان میں بدشگونی کہا جاتا ہے۔ تو قرآن و حدیث کی روشنی میں بدشگونی کی کیا حیثیت ہے؟
جواب:۔
اسلام میں نحوست اور بدشگونی کا کوئی تصوّر نہیں، یہ محض توہم پرستی ہے۔ حدیث شریف میں بدشگونی کے عقیدہ کی تردید فرمائی گئی ہے۔(۱) سب سے بڑی نحوست انسان کی اپنی بدعملیاں اور فسق و فجور ہے،(۲) جو آج مختلف طریقوں سے گھر گھر میں ہو رہا ہے ۔۔۔ اِلَّا ما شاء اللہ!۔۔۔ یہ بدعملیاں اور نافرمانیاں خدا کے قہر اور لعنت کی موجب ہیں، ان سے بچنا چاہئے۔
- (۱) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’لَا عدویٰ ولَا طیرۃ ولَا ھامۃ‘‘ (مشکوٰۃ ص:۳۹۱، باب الفال والطیرۃ)۔
- (۲) ﵟ قَالُواْ طَٰٓئِرُكُم مَّعَكُمۡ أَئِن ذُكِّرۡتُمۚ بَلۡ أَنتُمۡ قَوۡمٞ مُّسۡرِفُونَ ١٩ ﵞ يس ١٩ أی شؤمکم معكم، أی: حظكم من الخیر والشر معكم ولَازم فی أعناقكم ۔۔۔الخ۔ (تفسیر قرطبی ج:۱۵ ص:۱۶، طبع مصر)۔

