بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رُسومات

عیدکارڈ‌کی‌شرعی‌حیثیت

سوال:۔

عیدکارڈ کا رواج ہمارے ہاں کب سے ہوا؟ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس کی لکھائی چھپائی اور تقسیم پر جو لاکھوں روپیہ صَرف ہوتا ہے، کیا یہ اِسرافِ بے جا نہیں؟ شاید یہ رسمِ قبیح بھی غیرملکی دورِ اقتدار کی نشانی ہے، کیونکہ قیمتی کاغذ کی شکل میں لاکھوں روپیہ غیرملکیوں کو چلا جاتا ہے اور غیرملکی آقاؤں کی دی ہوئی تعلیم کا حامل ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ اس میں زیادہ حصہ لیتا ہے۔ شادی کارڈ کی شکل میں صَرف ہونے والا روپیہ بھی اس ذیل میں آتا ہے، ان کارڈوں کا خریدار بے تحاشہ روپیہ اس مد میں صَرف کرتا ہے جبکہ مرسل الیہ کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ کیا عید کی مبارک باد سادا خط میں نہیں دی جاسکتی؟

جواب:۔

یہ تو معلوم نہیں کہ عیدکارڈ کی رسم کب سے جاری ہوئی؟ مگر اس کے فضول اور بے جا اِسراف ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اسی طرح شادی کارڈ بھی فضول ہیں۔ آپ کے خیالات قابلِ قدر ہیں!