بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رُسومات

بچے‌کو‌دیکھنے‌کے‌پیسے‌دینا

سوال:۔

فرسودہ رسم و رواج میں سے ایک رسم جو اکثر گھرانوں میں پائی جاتی ہے، یہ ہے کہ جب کسی گھر میں بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو تمام رشتے دار اسے دیکھنے کے لئے آتے ہیں، لیکن بچے کو دیکھ لینے کے بعد ہر شخص پر یہ لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق جیب سے نوٹ نکال کر نومولود بچے کے ہاتھ میں تھمادے، کچھ ہی دیر بعد وہ نوٹ بچے کی ماں کے تکیے کے نیچے جمع ہوجاتے ہیں۔ یہ آسمانی قانون کی طرح ایک پختہ رسم بن چکی ہے اور آج تک ہم نے کسی کو اس کی خلاف ورزی کرتے نہیں دیکھا، جب بچے کی ماں کا چلہ پورا ہوجاتا ہے تو پھر نوٹوں کی گنتی کی جاتی ہے اور نوٹوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے بچے کی خوش قسمتی یا بدقسمتی کے متعلق رائے قائم کی جاتی ہے، یہ کاروبار کرنے کے لئے کئی گھرانوں میں بچے کی پیدائش کا بے چینی سے انتظار کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں ان فرسودہ رسم و رواج کی کوئی گنجائش موجود ہے؟

جواب:۔

نومولود بچے کی پیدائش پر اسے تحفہ دینا تو بزرگانہ شفقت کے زُمرے میں آتا ہے، لیکن اس کو ضروری اور فرض و واجب کے درجے میں سمجھ لینا اور اس کو بچے کی نیک بختی یا بدبختی کی علامت تصوّر کرنا غلط اور جاہلانہ تصوّر ہے۔