بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رُسومات

عذر‌کی‌وجہ‌سے‌اُنگلیاں‌چٹخانا

سوال:۔

میری اور میری دُوسری بہنوں کی اُنگلیاں چٹخانے کی عادت ہے، اگر اُنگلیاں چٹخائے ایک یا ڈیڑھ گھنٹہ ہوجائے تو ہاتھوں میں درد ہونے لگتا ہے، جبکہ ہماری امی اس حرکت سے سخت منع کرتی ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ اُنگلیاں چٹخانا حرام ہے۔ آپ براہِ کرم مجھے یہ بتائیں کہ کیا واقعی یہ حرکت کرنا حرام ہے یا شریعت میں اس کے متعلق کوئی حکم ہے؟

جواب:۔

اُنگلیاں چٹخانا مکروہ ہے اور اس کی عادت بہت بُری ہے۔(۱)

  1. (۱) وفرقعۃ الأصابع وتشبیکھا ولو منتظر الصلاۃ أو ماشیًا إلیھا للنھی ۔۔۔ فلو لدون حاجۃ بل علٰی سبیل العبث کرہ تنزیھًا ۔۔۔الخ۔ (شامی ج:۱ ص:۶۴۲، مطلب إذا تردد الحكم بین سُنّۃ وبدعۃ)۔