رُسومات
شادیکیموویبنانااورفوٹوکھنچواکرمحفوظرکھنا
سوال:۔
شادی میں فوٹوگرافی کی رسم بھی انتہائی ضروری ہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ تصویرکشی حرام ہے، لوگ اس کے کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا جو تصویریں کم علمی کے باعث پہلے بنوائی جاچکی ہیں، ان کا دیکھنا یا ان کا رکھنا کیسا ہے؟ آیا کہ ان کو بھی جلادیا جائے یا انہیں رکھ سکتے ہیں؟ اور جو اِن تصاویر کو سنبھال کر رکھے گا اور ان کی حرمت ثابت ہونے کے باوجود انہیں جلاتا نہیں ہے، اس کے لئے شریعت کیا حکم دیتی ہے؟
سوال:۔
فوٹوگرافی کے علاوہ (مووی بنانا) یعنی ویڈیو کیمرے کے ذریعے سے تصویرکشی کرنا کیسا ہے؟ اس کا بنوانا، اس کا دیکھنا اور اس کا رکھنا کیسا ہے؟ اگر بنانے والا اپنا محرَم ہی ہو تو پھر کیسا ہے؟ (یعنی بے پردگی نہیں ہوگی)۔
جواب:۔
تصویر بنانا، دیکھنا اور رکھنا شرعاً حرام ہے،(۱) تصویر بنائی ہی نہ جائے اور جو بے ضرورت ہو اس کو تلف کردیا جائے، اور اللہ تعالیٰ سے اِستغفار کیا جائے۔
جواب:۔
’’مووی بنانا‘‘ بھی تصویرسازی میں داخل ہے، ایسی تقریبات، جن میں ایسے حرام اُمور کا ارتکاب کرکے اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لی جائے، موجبِ لعنت ہیں، اور ایسی شادی کا انجام ’’خانہ بربادی‘‘ کے سوا کچھ نہیں نکلتا، ایسی خرافات سے توبہ کرنی چاہئے۔
- (۱) وظاھر کلام النووی فی شرح مسلم: الْإجماع علٰی تحریم تصویر الحیوان وقال: وسواء صنعہ لما یمتھن أو لغیرہ فصنعتہ حرام بكل حال ۔۔۔الخ۔ (شامی ج:۱ ص:۶۴۷) أیضًا عن عبداللہ بن مسعود قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: أشد الناس عذابًا عند اللہ المصوّرون۔ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۳۸۵، باب التصاویر)۔

