بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رُسومات

شادی‌کی‌رُسومات‌کو‌قدرت‌کے‌باوجود‌نہ‌روکنا‌شرعاً‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

شادی کی رُسومات کو اگر روکنے کی قدرت ہو تو بھی ان کو اپنے گھروں میں ہونے دینا کیسا ہے؟ یعنی ان رُسومات سے روکا نہ جائے بلکہ ناجائز سمجھتے ہوئے بھی کرایا جائے تو اس شخص کے لئے کیا حکم ہے؟ نیز ان رُسومات کو کس حد تک روکا جائے؟ آیا کہ بالکل ہونے ہی نہ دیا جائے یا صرف یہ کہہ دینا: ’’بھئی یہ کام نہیں ہوگا اس گھر میں‘‘ بھی کافی ہے؟

جواب:۔

ایمان کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ بُرائی کو ہاتھ سے روکا جائے، درمیانہ درجہ یہ ہے کہ زبان سے روکا جائے، اور سب سے کمزور درجہ یہ ہے کہ اگر ہاتھ سے یا زبان سے منع کرنے کی قدرت نہ ہو تو کم سے کم دِل سے بُرا سمجھے۔ جو لوگ قدرت کے باوجود ایسے حرام کاموں سے نہیں روکتے، نہ دِل سے بُرا جانتے ہیں، ان میں آخری درجے کا بھی ایمان نہیں۔(۱)

  1. (۱) عن أبی سعید الخدری عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من رأی منكم منکرًا فلیغیرہ بیدہ، فان لم یستطع فبلسانہ، فان لم یستطع فبقلبہ وذٰلك أضعف الْإیمان۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ، باب الأمر بالمعروف ص:۴۳۶)۔