رُسومات
مایوںاورمہندیکیرسمیںغلطہیں
سوال:۔
آج کل شادی کی تقریبات میں طرح طرح کی رُسومات کی قید لگائی جاتی ہے، معلوم نہیں کہ یہ کہاں سے آئی ہیں؟ لیکن اگر ان سے منع کرو تو جواب ملتا ہے کہ: ’’نئے نئے مولوی، نئے نئے فتوے‘‘ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دُلہن کو شادی سے چند دن پہلے پیلے رنگ کا جوڑا پہناکر گھر کے ایک کونے میں بٹھادیا جاتا ہے، اس حصے میں جہاں دُلہن ہو اسے پردے میں کردیا جاتا ہے (چادر وغیرہ سے) حتیٰ کہ باپ، بھائی وغیرہ یعنی محارِمِ شرعی سے بھی اسے پردہ کرایا جاتا ہے، اور باپ، بھائی وغیرہ (یعنی محارِم) سے پردہ نہ کرانے کو اِنتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے (چاہے شادی کے دنوں سے پہلے وہ لڑکی بے پردہ ہوکر کالج ہی کیوں نہ جاتی ہو)۔ اس رسم کا خواتین بہت زیادہ اہتمام کرتی ہیں اور اسے ’’مایوں بٹھانا‘‘ کے نام سے یاد کرتی ہیں، اگر کم دن بٹھایا جائے تو بھی بہت زیادہ اعتراض کرتی ہیں کہ: ’’صرف دو دن پہلے مایوں بٹھایا؟‘‘ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے اور کیا اس کا کسی بھی طرح سے اہتمام کرنا چاہئے یا کہ اسے بالکل ہی ترک کردینا صحیح ہے؟
سوال:۔
اسی طرح سے ایک رسم ’’مہندی‘‘ کے نام سے موسوم کی جاتی ہے، ہوتا کچھ اس طرح ہے کہ ایک دن دُولہا کے گھر والے مہندی لے کر دُلہن کے گھر آتے ہیں اور دُوسرے دن دُلہن والے، دُولہا کے گھر مہندی لے کر جاتے ہیں، اس رسم میں عورتوں اور مردوں کا جو اِختلاط ہوتا ہے اور جس طرح کے حالات اس وقت ہوتے ہیں وہ ناقابلِ بیان ہیں، یعنی حد درجے کی بے حیائی وہاں برتی جاتی ہے، اور اگر کہا جائے کہ یہ رسم ہندوؤں کی ہے اسے نہ کرو تو بعض لوگ تو اس رسم کو اپنے ہی گھر منعقد کرلیتے ہیں (یعنی ایک دُوسرے کے گھر جانے کی ضرورت نہیں رہتی)، مگر کرتے ضرور ہیں، جوان لڑکیاں بے پردہ ہوکر گانے گاتی ہیں اور بڑے بڑے حضرات جو اپنے آپ کو بہت زیادہ دِین دار کہتے ہیں، ان کے گھروں میں بھی اس رسم کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔
جواب:۔
’’مایوں بٹھانے‘‘ کی رسم کی کوئی شرعی اصل نہیں، ممکن ہے جس شخص نے یہ رسم اِیجاد کی ہے، اس کا مقصد یہ ہو کہ لڑکی کو تنہا بیٹھنے، کم کھانے اور کم بولنے، بلکہ نہ بولنے کی عادت ہوجائے اور اسے سسرال جاکر پریشانی نہ ہو۔ بہرحال اس کو ضروری سمجھنا اور محارِمِ شرعی تک سے پردہ کرادینا نہایت بے ہودہ بات ہے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ رسم لڑکی کے حق میں ’’قیدِ تنہائی‘‘ بلکہ زندہ درگور کرنے سے کم نہیں۔ تعجب ہے کہ روشنی کے زمانے میں تاریک دور کی یہ رسم خواتین اب تک سینے سے لگائے ہوئے ہیں اور کسی کو اس کی قباحت کا احساس نہیں ہوتا۔۔۔!
جواب:۔
مہندی کی رسم جن لوازمات کے ساتھ ادا کی جاتی ہے، یہ بھی دورِ جاہلیت کی یادگار ہے، جس کی طرف اُوپر اشارہ کرچکا ہوں، اور یہ تقریب جو بظاہر بڑی معصوم نظر آتی ہے، بہت سے محرّمات کا مجموعہ ہے، اس لئے پڑھی لکھی خصوصاً دِین دار خواتین کو اس کے خلاف احتجاج کرنا چاہئے اور اس کو یکسر بند کردینا چاہئے، بچی کے مہندی لگانا تو بُرائی نہیں، لیکن اس کے لئے تقریبات منعقد کرنا اور لوگوں کو دعوتیں دینا، جوان لڑکوں اور لڑکیوں کا شوخ رنگ اور بھڑکیلے لباس پہن کر بے محابا ایک دُوسرے کے سامنے جانا بے شرمی و بے حیائی کا مرقع ہے۔

