بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رُسومات

غلط‌رُسومات‌کا‌گناہ

سوال:۔

ہم لوگ مسلمانوں کے فرقے سے ہیں، ہماری برادری کی اکثریت کاٹھیاوار (گجراتی) بولنے والوں کی ہے، ہم لوگوں پر اپنے آباء و اجداد کے رائج رُسوم، طریقہ و رواج کے اثرات ہیں، جن کے مطابق ہم لوگ بڑی پابندی سے ذکر کردہ رُسوم و طریقے پر عمل کرتے ہیں، جن کی بنا پر ہم لوگ (بہت مصروف ہوتے ہیں) ہم لوگ نماز نہیں پڑھتے، بعض ہماری رُسوم ایسی ہوتی ہیں کہ رات کافی دیر تک ہوتی ہیں۔ رمضان میں ہم روزہ نہیں رکھتے، زکوٰۃ کو ہم ’’وسوند‘‘ کہتے ہیں، فرق یہ ہے کہ روپیہ پر ہم دو آنہ دیتے ہیں، ذکر کردہ تمام رُسوم، طریقے کو ہم گجراتی میں الگ الگ نام سے پکارتے ہیں، جن میں خاص خاص کے نام یہ ہیں: مجلس دُعا، نادی چاند رات کی مجلس، گھٹ پاٹ، جرا، بول اسم اعظم نورانی، فدائی، بخشونی، ستارے جی تسبیحات، پھاڑا نیچے بھائیوں کی مجلس وغیرہ وغیرہ، (یہ سب نام گجراتی میں لکھے گئے ہیں)، آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ چونکہ مسلمان ہم سب ہیں، کیا ہمیں ان رُسوم، طریقہ و رواج کو اَپنائے رکھنا چاہئے یا ترک کردیں؟ کیونکہ ان کی بنا پر ہماری عبادات مخل ہوتی ہیں، اور کیا ہم لوگ ان رُسومات کی بنا پر کہیں گناہگار تو نہیں ہو رہے؟

جواب:۔

چند باتیں اچھی طرح سمجھ لیجئے:

ا:۔ دِینِ اسلام کے ارکان کا ادا کرنا اور ان کو ضروری سمجھنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اور ان کو چھوڑنے کی کسی حالت میں بھی اجازت نہیں،(۱) اس لئے آپ یا آپ کی برادری کے جو لوگ اسلامی ارکان کے تارک ہیں وہ اس کی وجہ سے سخت گناہگار ہیں، اس سے توبہ کرنی چاہئے۔

۲:۔ آپ نے جن رُسومات کا ذکر کیا ہے، ان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے، ان کو شرعی عبادت سمجھ کر ادا کرنا بہت ہی غلط بات ہے۔

۳:۔ جس مشغولی کی وجہ سے فرائض ترک ہوجائیں، ایسی مشغولی بھی ناجائز ہے۔(۲)

ان تین نکات میں آپ کے تمام سوالوں کا جواب آگیا۔

  1. (۱) وفی الحدیث الصحیح: ان اللہ فرض فرائض فلا تضیعوھا، وحدّ حدودًا فلا تعتدوھا، وحرّم أشیاء فلا تنتھکوھا ۔۔۔إلخ۔ (الزواجر عن اقتراف الكبائر ج:۱ ص:۱۲، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔
  2. (۲) ویؤیدہ قولہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الحدیث الصحیح: إذا أمرتكم بشیء فأتوا ما استطعتم وإذا نھیتكم عن شیء فاجتنبوہ، فأتی بالْإستطاعۃ فی جانب المأمورات ولم یأت بھا فی جانب المنھیات إشارۃ إلٰی عظیم خطرھا وقبیح وقعھا، وأنہ یجب بذل الجھد والوسع فی المباعدۃ عنھا سواء إستطاع ذٰلك أم لَا۔ (الزواجر عن اقتراف الكبائر ج:۱ ص:۱۲)۔