رُسومات
دریامیںصدقےکینیتسےپیسےگراناموجبِوبالہے
سوال:۔
دریا کے پلوں سے گزرتے ہوئے اکثر مسافر پانی میں روپے پیسے بہادیتے ہیں، کیا یہ عمل صدقے کی طرح دافعِ بلا ہے؟
جواب:۔
یہ صدقہ نہیں، بلکہ مال کو ضائع کرنا ہے، اس لئے کارِ ثواب نہیں، بلکہ موجبِ وبال ہے۔(۱)
- (۱) عن أبی ذرّ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: الزھادۃ فی الدنیا لیست بتحریم الحلال ولَا اِضاعۃ المال ۔۔۔الخ۔ وفی حاشیۃ المشکوٰۃ عن المرقاۃ: ولَا اضاعۃ المال أی بتضییعہ وصَرفہ فی غیر محلہ بأن یرمیہ فی بحر أو یعطیہ للناس من غیر تمییز بین غنی وفقیر ۔۔۔الخ۔ (مشکوٰۃ ص:۴۵۳ حاشیہ نمبر۲، باب التوكل والصبر، الفصل الثانی، طبع قدیمی)۔

