بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رُسومات

’’اپریل‌فول‘‘‌کا‌شرعی‌حکم

سوال:۔

آپ سے ایک اہم مسئلے کی بابت دریافت کرنا ہے، مسلمانوں کے لئے نصاریٰ کی پیروی اپریل فول منانا یعنی لوگوں کو جھوٹ بول کر فریب دینا یا ہنسنا ہنسانا جائز ہے کہ نہیں؟ جبکہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’وَيْلٌ لِلَّذِيْ يُحَدِّثُ فَيَكْذِبُ، يُضْحِك بِهِ الْقَوْمَ، وَيْلٌ لَهُ! وَيْلٌ لَهُ!‘‘ (ابوداؤد ج:۲ ص:۳۳۳)۔ ’’یعنی ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جو اس مقصد کے لئے جھوٹی بات کرے کہ اس کے ذریعہ لوگوں کو ہنسائے، اس کے لئے ہلاکت ہے! اس کے لئے ہلاکت ہے!‘‘ نیز ارشاد ہے:

’’لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيْمَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَتْرُك الْكَذِبَ فِيْ مِزَاحِهِ، وَيَتْرُكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا۔‘‘ (کنز العمال حدیث نمبر:۸۲۲۹)۔

یعنی ’’بندہ اس وقت تک پورا اِیماندار نہیں ہوسکتا جب تک مزاح میں بھی غلط بیانی نہ چھوڑ دے اور سچا ہونے کے باوجود جھگڑا نہ چھوڑ دے۔‘‘

گزشتہ سال ’’اپریل فول‘‘ کے طور پر فائربرگیڈ کو ٹیلی فون کئے گئے کہ فلاں فلاں جگہ آگ لگ گئی ہے، جب یہ لوگ وہاں پہنچے تو کچھ بھی نہیں تھا، معلوم ہوا کہ یہ محض مذاق تھا، اس کا نتیجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یکم اپریل کو واقعتاً کوئی حادثہ ہوجائے اور خبر سننے والا اس کو مذاق سمجھ کر اس کی طرف توجہ نہ دے۔

جواب:۔

جناب نے ایک اہم ترین مسئلے کی طرف توجہ دِلائی ہے، جس میں آج کل بہت لوگ مبتلا ہیں۔ ’’اپریل فول‘‘ کی رسم مغرب سے ہمارے یہاں آئی ہے اور یہ بہت سے کبیرہ گناہوں کا مجموعہ ہے۔

اوّل:۔ اس دن صریح جھوٹ بولنے کو لوگ جائز سمجھتے ہیں، جھوٹ کو اگر گناہ سمجھ کر بولا جائے تو گناہِ کبیرہ ہے اور اگر اس کو حلال اور جائز سمجھ کر بولا جائے تو اندیشۂ کفر ہے۔(۱) جھوٹ کی بُرائی اور مذمت کے لئے یہی کافی ہے کہ قرآنِ کریم نے ﵟلَّعۡنَتَ ٱللَّهِ عَلَى ٱلۡكَٰذِبِينَﵞ(آل عمران٦١)فرمایا ہے، گویا جو لوگ ’’اپریل فول‘‘ مناتے ہیں وہ قرآن میں ملعون ٹھہرائے گئے ہیں، اور ان پر خدا تعالیٰ کی، رسولوں کی، فرشتوں کی، انسانوں کی اور ساری مخلوق کی لعنت ہے۔

دوم:۔ اس میں خیانت کا بھی گناہ ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے:

’’کَبُرَتْ خِیَانَۃً أَنْ تُحَدِّثَ أَخَاکَ حَدِیْثًا ھُوَ لَکَ مُصَدِّقٌ وَّأَنْتَ بِہٖ کَاذِبٌ۔ رواہ ابوداوٗد۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۴۱۳)

ترجمہ:۔ ’’بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایک بات کہو جس میں وہ تمہیں سچا سمجھے، حالانکہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔‘‘

اور خیانت کا کبیرہ گناہ ہونا بالکل ظاہر ہے۔

سوم:۔ اس میں دُوسرے کو دھوکا دینا ہے، یہ بھی گناہِ کبیرہ ہے، حدیث میں ہے:

’’مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۳۰۵)

ترجمہ:۔ ’’جو شخص ہمیں (یعنی مسلمانوں کو) دھوکا دے، وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘

چہارم:۔ اس میں مسلمانوں کو اِیذا پہنچانا ہے، یہ بھی گناہِ کبیرہ ہے، قرآنِ کریم میں ہے:

’’بے شک جو لوگ ناحق ایذا پہنچاتے ہیں مؤمن مردوں اور عورتوں کو، انہوں نے بہتان اور بڑا گناہ اُٹھایا۔‘‘(۲)

پنجم:۔ اپریل فول منانا گمراہ اور بے دِین قوموں کی مشابہت ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ‘‘(۳) ’’جس شخص نے کسی قوم کی مشابہت کی وہ انہی میں سے ہوگا۔‘‘ پس جو لوگ فیشن کے طور پر اَپریل فول مناتے ہیں، ان کے بارے میں اندیشہ ہے کہ وہ قیامت کے دن یہود و نصاریٰ کی صف میں اُٹھائے جائیں۔ جب یہ اتنے بڑے گناہوں کا مجموعہ ہے تو جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے معمولی عقل بھی دی ہو، وہ انگریزوں کی اندھی تقلید میں اس کا اِرتکاب نہیں کرسکتا۔ اس لئے تمام مسلمان بھائیوں کو نہ صرف اس سے توبہ کرنی چاہئے، بلکہ مسلمانوں کے مقتدا لوگوں کا فرض ہے کہ ’’اپریل فول‘‘ پر قانونی پابندی کا مطالبہ کریں اور ہمارے مسلمان حکام کا فرض ہے کہ اس باطل رسم کو سختی سے روکیں۔

  1. (۱) ومنھا ان استحلال المعصیۃ صغیرۃ کانت أو كبیرۃ کفر، اذا ثبت کونھا معصیۃ بدلَالۃ قطعیۃ، وكذا الْإستھانۃ بھا کفر، بأن یعدھا ھیِّنۃً سھلۃً، ویرتكبھا من غیر مبالَاۃ بھا، ویجری مجری المباحات فی ارتکابھا ۔۔۔الخ۔ (شرح فقہ اكبر ص:۱۸۶ طبع دہلی مجتبائی)۔
  2. (۲) ﵟ وَٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ بِغَيۡرِ مَا ٱكۡتَسَبُواْ فَقَدِ ٱحۡتَمَلُواْ بُهۡتَٰنٗا وَإِثۡمٗا مُّبِينٗا ٥٨ ﵞ الأحزاب ٥٨۔
  3. (۳) جامع الصغیر ج:۲ ص:۸، مشکوٰۃ ج:۲ ص:۳۷۵ کتاب اللباس۔