بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رُسومات

مکان‌کی‌بنیاد‌میں‌خون‌ڈالنا

سوال:۔

میں نے ایک عدد پلاٹ خریدا ہے اور میں اس کو بنوانا چاہتا ہوں، میں نے اس کی بنیاد رکھنے کا ارادہ کیا تو ہمارے بہت سے رشتہ دار کہنے لگے کہ: ’’اس کی بنیادوں میں بکرے کو کاٹ کر اس کا خون ڈالنا اور گوشت غریبوں میں تقسیم کردینا اچھا ہے‘‘ اور بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ: ’’بنیادوں میں تھوڑا سا سونا یا چاندی ڈالو، ورنہ آئے دن بیمار رہوگے‘‘ میں نے جہاں پلاٹ لیا ہے وہاں بہت سے مکان بنے ہیں اور زیادہ تر لوگوں نے بکرے وغیرہ کا خون بنیادوں میں ڈالا ہے، میں نے اس سلسلے میں اپنے اُستاد سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ: ’’میاں! خون اور سونا یا چاندی بنیادوں میں ڈالنا سب ہندوانی رسمیں ہیں۔‘‘ اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

(۱) سوال:۔۔۔ آج کل کوئی شخص مکان تعمیر کرتا ہے تو اس کی بنیادوں میں بکرا ذبح کرکے اس کا خون ڈالتا ہے، اور گوشت اپنے احباب اور فقراء میں تقسیم کرتا ہے، کیا شرعی لحاظ سے اس کی کوئی اصل ہے یا نہیں؟

جواب:۔

آپ کے اُستاد صاحب نے صحیح فرمایا ہے، مکان کی بنیاد پر بکرے کا خون یا سونا چاندی ڈالنے کی کوئی شرعی اصل نہیں۔(۱)

جواب:۔۔۔

اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں، یہ ہندوؤں اور بت پرستوں کا عقیدہ ہے۔ دیکھیں: ’’احسن الفتاویٰ‘‘ ج:۸ ص:۲۲۸، ایضاً: خیر الفتاویٰ ج:۱ ص:۸۲، طبع ملتان۔