بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رُسومات

سالگرہ‌کی‌رسم‌میں‌شرکت‌کرنا

سوال:۔

ایک شخص خود سالگرہ نہیں مناتا، لیکن اس کا کوئی بہت ہی قریبی عزیز اسے سالگرہ میں شرکت کی دعوت دیتا ہے، کیا اسے شرکت کرنی چاہئے؟ کیونکہ اسلام یوں تو دُوسروں کی خوشیوں میں شرکت اور دعوتوں میں جانے کو ترجیح دیتا ہے۔ میں ڈی ایم سی کی طالبہ ہوں، کالج میں جس لڑکی کی سالگرہ ہوتی ہے وہ کالج ہی میں ٹریٹ (دعوت) دیتی ہے، کیا ٹریٹ میں شرکت کرنی چاہئے؟

سوال:۔

اگر شرکت نہ کریں اور وہ خود جس کی سالگرہ ہو آکر ہمیں کیک اور دُوسری اشیاء دے تو کھالینی چاہئے یا انکار کردینا چاہئے؟

سوال:۔

اگر سالگرہ میں جانا مناسب نہیں ہے تو صرف سالگرہ کا تحفہ اس دعوت کے بعد یا پہلے دے دینا کیسا ہے؟ کیونکہ لوگ پھر یہ کہیں گے کہ تحفہ نہ دینا پڑے اس لئے نہ آئے، حالانکہ اسلام تو خود اِجازت دیتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بھی ہے کہ ایک دُوسرے کو تحائف دیا کرو، اس سے محبت بڑھتی ہے۔

سوال:۔

ہم خود سالگرہ نہ منائیں، لیکن کوئی دُوسرا ہمیں کارڈ یا تحفہ دے (سالگرہ کا) تو اسے قبول کرنا چاہئے یا انکار کردینا چاہئے؟ حالانکہ انکار کرنا کچھ عجیب سا لگے گا۔

سوال:۔

کالج میں عموماً سالگرہ کی مبارک باد دینے کے لئے سالگرہ کے کارڈز دئیے جاتے ہیں، کیا وہ دینا دُرست ہے؟ ایک صاحب کا کہنا ہے کہ دُرست ہے، کیونکہ یہ ایک دُوسرے کی خوشیوں میں شرکت کا اظہار ہے۔

جواب:۔

فضول چیزوں میں شرکت بھی فضول ہے۔

جواب:۔

اگر اس فضول رسم میں شرکت مطلوب ہو تو کھالیا جائے، ورنہ انکار کردیا جائے۔

جواب:۔

تحفہ دینا اچھی بات ہے، لیکن سالگرہ کی بنا پر دینا بدعت ہے۔

جواب:۔

اُوپر لکھ چکا ہوں، انکار کرنا عجیب اس لئے لگتا ہے کہ دِل و دِماغ میں انگریزیت رَچ بس گئی ہے، اسلام اور اسلامی تمدّن نکل چکا ہے۔

جواب:۔

یہ بھی اسی فضول رسم کی شاخ ہے، جب سالگرہ کی خوشی بے معنی ہے، تو اس میں شرکت بھی بے معنی ہے۔