بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رُسومات

سورج‌اور‌چاند‌گرہن‌کے‌وقت‌حاملہ‌جانوروں‌کے‌گلے‌سے‌رسیاں‌نکالنا

سوال:۔

چاند اور سورج گرہن کی کتاب و سنت کی نظر میں کیا حقیقت ہے؟ قرآن اور سنت کی روشنی میں بتائیں کہ یہ دُرست ہے یا کہ غلط کہ جب سورج یا چاند کو گرہن لگتا ہے تو حاملہ گائے، بھینس، بکری اور دیگر جانوروں کے گلے سے رسّے یا سنگل کھول دینے چاہئیں یا یہ صرف توہمات ہی ہیں؟

جواب:۔

چاند گرہن اور سورج گرہن کو حدیث میں قدرتِ خداوندی کے ایسے نشان فرمایا گیا ہے، جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈرانا چاہتے ہیں، اور اس موقع پر نماز، صدقہ خیرات اور توبہ و اِستغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ باقی سوال میں جس رسم کا تذکرہ ہے، اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔

ہمارے خیال میں یہ توہم پرستی ہے جو ہندو معاشرے سے ہمارے یہاں منتقل ہوئی ہے، واﷲ اعلم!(۱)

  1. (۱) عن أبی موسٰی رضی اللہ عنہ قال: خسفت الشمس فقام النبی صلی اللہ علیہ وسلم فزعًا یخشٰی أن تکون الساعۃ، فأتی المسجد فصلّٰی بأطول قیام ورکوع وسجود رأیتہ قط یفعلہ وقال: ھٰذہ الآیات التی یرسل اللہ عزّ وجلّ، لَا تکون لموت أحد ولَا لحیاتہ، ولٰـكن یخوّف اللہ بھا عبادہ، فاذا رأیتم شیئًا من ذٰلك فافزعوا الٰی ذکر اللہ ودعائہ واستغفارہ۔ (بخاری ج:۱ ص:۱۴۵، باب الذکر فی الكسوف، طبع نور محمد کراچی)۔