رُسومات
سورجگرہناورحاملہعورت
سوال:۔
ہمارے معاشرے میں یہ بات بہت مشہور ہے اور اکثر لوگ اسے صحیح سمجھتے ہیں کہ جب چاند کو گرہن لگتا ہے یا سورج کو گرہن لگتا ہے تو حاملہ عورت یا اس کا خاوند (اس دن یا رات کو جب سورج یا چاند کو گرہن لگتا ہے) آرام کے سوا کوئی کام بھی نہ کریں، مثلاً: اگر خاوند دن کو لکڑیاں کاٹے یا رات کو وہ اُلٹا سوجائے تو جب بچہ پیدا ہوگا تو اس کے جسم کا کوئی نہ کوئی حصہ کٹا ہوا ہوگا یا وہ لنگڑا ہوگا یا اس کا ہاتھ نہیں ہوگا، وغیرہ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا جواب عنایت فرمائیں اور یہ بھی بتائیں کہ اس دن یا رات کو کیا کرنا چاہئے؟
جواب:۔
حدیث میں اس موقع پر صدقہ و خیرات، توبہ و اِستغفار، نماز اور دُعا کا حکم ہے، دُوسری باتوں کا ذکر نہیں، اس لئے ان کو شرعی چیز سمجھ کر نہ کیا جائے۔(۱)
- (۱) عن عائشۃ رضی اللہ عنھا أنھا قالت: خسفت الشمس فی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فصلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالناس ۔۔۔ ثم قال: ان الشمس والقمر آیتان من آیات اللہ، لَا یخسفان لموت أحد ولَا لحیاتہ، فاذا رأیتم ذٰلك فادعو اللہ وكبّروا وصلّوا وتصدقوا۔ (بخاری ج:۱ ص:۱۴۲، باب الصدقۃ فی الكسوف)۔

