رُسومات
توہماتکیحقیقت
سوال:۔
جہالت کی وجہ سے برِصغیر میں بعض مسلمان گھرانوں کے لوگ مندرجہ ذیل عقیدوں پر یقین رکھتے ہیں، مثلاً: گائے کا اپنی سینگ پر دُنیا کو اُٹھانا، پہلے بچے کی پیدائش سے پہلے کوئی کپڑا نہیں سیا جائے، بچے کے کپڑے کسی کو نہ دئیے جائیں، کیونکہ بانجھ عورتیں جادُو کرکے بچے کو نقصان پہنچاسکتی ہیں، بچے کو بارہ بجے کے وقت پالنے یا جھولے میں نہ لٹایا جائے، کیونکہ بھوت پریت کا سایہ ہوجاتا ہے، بچے کو زوال کے وقت دُودھ نہ پلایا جائے اور اگر بچے کو کوئی پیچیدہ بیماری ہوجائے تو اس کو بھی بھوت پریت کا سایہ کہہ کر جھاڑ پھونک اور جادُو ٹونا کرتی ہیں، اور دُوسرے مسائل وغیرہ۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اسلام میں ان باتوں کا کوئی وجود ہے؟ کیا یہ ایمان کی کمزوری کی باتیں نہیں ہیں؟ اگر ہمارا ایمان پختہ ہو تو ان توہمات سے چھٹکارا حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں۔ شاید آپ کے جواب سے لاکھوں گھروں کی جہالت دُور ہوجائے اور لوگ فضول توہمات پر یقین رکھنے کی بجائے اپنا اِیمان پختہ کریں۔
جواب:۔
آپ نے جو باتیں لکھی ہیں، وہ واقعۃً توہم پرستی کے ذیل میں آتی ہیں۔ جنات کا سایہ ہونا ممکن ہے اور بعض کو ہوتا بھی ہے، لیکن بات بات پر سائے کا بھوت سوار کرلینا غلط ہے۔(۱)
- (۱) وأما الجنّ والشیاطین فیخالطون بعض الأناسی ویعاونونھم علی السحر والطلسمات والنیرنجات وما یشاكل ذٰلك۔ (شرح المقاصد ج:۲ ص:۵۵، طبع دار المعارف النعمانیۃ، لَاھور)۔ والعین حق وحقیقتھا تأثیر المام نفسی العائن وصدمۃ تحمل من المامھا بالمعین وكذا نظرۃ الجنّ۔ (حجۃ اللہ البالغۃ ج:۲ ص:۱۹۴، طبع مصر)۔

