بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جنات

شیاطین‌کے‌ذریعے‌چیزیں‌منگوانے‌اور‌اَرواح‌سے‌باتیں‌کروانے‌والا‌گمراہ‌ہے

سوال:۔

ہمارے رشتہ داروں میں ایک لڑکا ایسا آتا ہے، جس کی عمر تقریباً ۲۴، ۲۵ سال ہے، جس کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس جن قابو ہیں۔ اس کا مظاہرہ وہ اکثر ہمارے سامنے بھی کرچکا ہے، یعنی غیب سے چیزیں، پھل، دوائیاں، کپڑا، غرض کہ بہت سے کمالات وہ کرکے دِکھاتا ہے۔ وہ لڑکا آٹھ جماعتیں بھی پاس نہیں ہے، نہ اسے قرآنِ پاک ہی پڑھنا آتا ہے، فلمیں وہ دیکھتا ہے، نمازیں شاید پوری پڑھتا ہو، تعویذ، دَم دُرود وہ کرتا ہے، ہمارے سارے خاندان والے اس کی باتیں پتھر پر لکیر سمجھتے ہیں، حالانکہ عام زندگی میں وہ اتنا عقل مند بھی نہیں ہے۔

مولانا صاحب! آپ سے دراصل یہ پوچھنا ہے کہ کیا یہ سب باتیں سچ ہیں؟ کیا عام انسان یہ سب کچھ کرسکتا ہے؟ کیا واقعی اس کے پاس کوئی جن قابو ہے یا یہ سب فراڈ ہے؟ مجھے تو یہ سب فراڈ ہی معلوم ہوتا ہے، کیا اس کی باتوں پر یقین کرنے سے ہمارے ایمان پر تو کوئی اثر نہیں ہوگا؟ خط لکھنے کا ایک اور مقصد یہ بھی ہے کہ اُسی پیر نما لڑکے نے اب رُوحوں کو حاضر کرنا شروع کردیا ہے، حضرت علیؓ، حضرت فاطمہؓ، حضرت نظام الدین اولیاءؒ، حضرت اِمام حسنؓ، حسینؓ، غرض کہ وہ ہر ایک کی رُوح کو حاضر کرتا ہے اور ان سے باتیں کرواتا ہے۔ کہاں وہ بلند پایہ ہستیاں، بزرگانِ دِین، اور کہاں یہ دُنیادار اِنسان! میرے دِل کو یہ بات نہیں لگتی، اس کا طریقۂ کار یہ ہے کہ وہ ایک چادر لپیٹ کر چارپائی پر بیٹھ جاتا ہے، تھوڑی دیر بعد پتا چلتا ہے کہ رُوح حاضر ہوگئی اور پھر سب اس سے باتیں کرتے ہیں۔ ایک ہفتہ قبل میرے خالو جان کا انتقال ہوا، تو تیسرے روز اس نے ان کی رُوح سے باتیں کروائیں۔ مولانا صاحب! عجیب شش و پنج کی کیفیت ہے، آپ ہی میری رہنمائی فرمائیے کہ آیا یہ باتیں دُرست ہیں اور کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ اور کیا ان باتوں پر یقین کرنے سے ہم دِین سے تو خارج نہیں ہوجائیں گے؟ اگر آپ نے میری رہنمائی فرمائی تو شاید بہت سے ضعیف الاعتقاد لوگوں کا بھلا ہوسکے۔ فی الحال مجھے اس کی باتوں کا یقین نہیں آتا، آپ کے جواب کے بعد ہی کوئی فیصلہ ممکن ہے۔

جواب:۔

اس لڑکے کے جو حالات آپ نے تحریر فرمائے ہیں، یہ نہایت افسوس ناک ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ جنوں سے اس کا تعلق اور رابطہ ہو، مگر جنات اس کے قابو میں نہیں، بلکہ وہ خود شیاطین کے ہتھے چڑھا ہوا ہے۔ شیطان نے اس کو کوئی ایسا جادو کا عمل بتایا ہے جس کے ذریعے شیطان اس کے پاس حاضر ہوجاتے ہیں، اور وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو اسی طرح گمراہ کرتا ہے۔ غائب کی جو چیزیں وہ منگواتا ہے، وہ شیاطین لوگوں کی چوری کرکے لاتے ہیں، ایسی چیزوں کا کھانا حرام ہے۔(۱) اور جن اَرواح کو وہ حاضر کرتا ہے وہ بھی شیاطین ہی ہیں، جو ان اَرواح کے نام سے بولتے ہیں۔ یہ مضمون احادیث شریفہ میں صاف صاف آیا ہے۔(۲)

عوام، حقیقتِ حال سے بے خبر بھی ہوتے ہیں اور ضعیف الاعتقاد اور توہم پرست بھی، وہ ایسے پاجیوں کو بزرگ اور ولی سمجھ لیتے ہیں، اور ان شعبدوں کو ولایت اور اولیائی تصوّر کرتے ہیں، حالانکہ یہ سارا شیطانی کھیل ہوتا ہے۔ جس شخص کے اعمال محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و شریعت کی میزان پر پورے نہ اُترتے ہوں، وہ گمراہ ہے، خواہ ہوا میں اُڑتا، پانی پر تیرتا اور آگ میں کود کر دِکھاتا ہو، ایسے شخص کی باتوں پر اعتقاد رکھنا گناہ ہے اور اس سے کفر کا اندیشہ ہے۔(۳)

  1. (۱) ۔۔۔ ویکتبون غیر ذٰلك مما یرضاہ الشیطان أو یتكلمون بذٰلك ۔۔۔ وأما أن یأتیہ بمال من أموال بعض الناس كما تسرقہ الشیاطین من أموال الخائنین ۔۔۔الخ۔ (آکام المرجان ص:۱۰۰، الباب الثامن والأربعون)۔
  2. (۲) عن أبی أُمامۃ الباھلی رضی اللہ عنہ قال: خطبنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فکان أکثر خطبتہ حدیثا حدّثناہ عن الدّجّال وحذّرناہ فکان من قولہ أن قال ۔۔۔ وإن من فتنتہ أن یقول لأعرابی: أرأیت إن بعثت لك أباك وأُمّك أتشھد أنّی ربّك؟ فیقول: نعم! فیتمثّل لہ شیطانان فی صورۃ أبیہ واُمّہ فیقولَان: یا بُنیّ اتّبعہ فإنہ ربّك۔ (التصریح بما تواتر فی نزول المسیح ص:۱۴۲ تا ۱۴۵ طبع دارالعلوم کراچی)۔ وما یحصل لبعضھم عند سماع الأنغام المطربۃ من الھذیان والتكلم ببعض اللغات المخالفۃ للسانہ المعروف منہ فذالك شیطان یتكلم علٰی لسانہ، كما یتكلم علٰی لسان المصروع وذٰلك کلہ من الأحوال الشیطانیۃ ۔۔۔إلخ۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۵۷۶) تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: آکام المرجان ص:۱۰۳، ۱۰۴ الباب الثامن والأربعون۔
  3. (۳) وتصدیق الکاھن بما یخبرہ عن الغیب کفر ۔۔۔ فمنھم من کان یزعم ان لہ رئیا من الجن، وتابعۃ یلقی الیہ الأخبار، ومنھم من کان یزعم انہ یستدرك الاُمور بفھم اعطیہ، والمنجم اذا ادعی العلم بالحوادث الآتیۃ فھو مثل الکاھن ۔۔۔ الخ۔ (شرح عقائد النسفیہ ص:۱۷۰)۔ أیضًا: وفی روایۃ من أحدث فی أمرنا ھٰذا ما لیس منہ فھو ردٌّ، فلا طریقہ إلّا طریقۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم، ولَا حقیقۃ إلّا حقیقتہ، ولَا شریعۃ إلّا شریعتہ ۔۔۔ ومن لم یكن لہ مصدقًا فیما أخبر، ملتزمًا لطاعتہ فیما أمر فی الأمور الباطنۃ التی فی القلوب، والأعمال الظاھرۃ التی علی الأبدان، لم یكن مؤمنًا فضلًا عن أن یکون ولیًا ِﷲِ تعالٰی، ولو طار فی الھواء، ومشی علی الماء، وأنفق من الغیب، وأخرج الذھب من الخشب۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۵۷۲ طبع المکتبۃ السلفیۃ لَاہور)۔