جنات
اللہتعالیٰکیحکمعدولیصرفشیطاننےکیتھی،اسکیاولادنےاسکیپیرویکی
سوال:۔
حضرت! جیسا کہ ہم نے پڑھا ہے کہ شیطان اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی کرنے کی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا۔ میرا سوال یہ ہے کہ یہ حکم عدولی شیطان مردود نے تن تنہا کی تھی، یا اس کے ساتھ اس نافرمانی میں کوئی دُوسرا یا کوئی جماعت بھی شامل تھی، جن کا یہ سردار تھا، اگر شیطان نے تن تنہا یہ حکم عدولی کی تھی، تو پھر اس کی ذُرّیت سے کیا مراد ہے؟ اور قرآن میں ’’شیاطین‘‘ کا لفظ کن کے لئے استعمال ہوا ہے؟ اگر شیطان کی اولاد ہے تو کیا وہ بھی شیطان کی وجہ سے پیدائشی راندۂ درگاہ ہیں یا شیطان کی پیروی کی وجہ سے راندۂ درگاہ ہیں؟
جواب:۔
شیطان ابو الجنات ہے،(۱) حکم عدولی تو اس نے کی تھی، اس کی اولاد نے اس کی پیروی کی۔ اور یہ پیروی اختیار اور تمرّد سے کی،(۲) جنات میں مؤمن بھی ہیں مگر کم۔(۳) کافر جنات کو ’’شیاطین‘‘ کہتے ہیں، اور کبھی یہ لفظ ’’متمرّد‘‘ اور سرکش انسانوں کے لئے بولا جاتا ہے، واللہ اعلم!
- (۱) ﵟ وَإِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأٓدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ ﵞ، ھو أبو الجنّ کان بین الملائكۃ ۔۔۔الخ۔ (جلالین ص:۸ سورۃ البقرۃ)۔
- (۲) ﵟ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ أَبَىٰ وَٱسۡتَكۡبَرَ ﵞ امتنع عما أمر بہ استكبارًا من ان یتخذہ وضلۃ فی عبادۃ ربہ ۔۔۔إلخ۔ (قولہ إمتنع عما أمر بہ) أی باختیارہ من غیر ان یکون لہ عذر فیہ لما صرح بہ من أن الْإباء امتناع باختیارہ فیکون أخص مطلقًا من الْإمتناع۔ (تفسیر بیضاوی مع حاشیۃ شیخ زادہ ج:۱ ص:۵۲۹ سورۃ البقرۃ آیت:۳۴)۔
- (۳) ﵟ وَأَنَّا مِنَّا ٱلۡمُسۡلِمُونَ وَمِنَّا ٱلۡقَٰسِطُونَۖ فَمَنۡ أَسۡلَمَ فَأُوْلَٰٓئِكَ تَحَرَّوۡاْ رَشَدٗا ١٤ ﵞ الجن ١٤۔

