بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جنات

اِبلیس‌کی‌حقیقت‌کیا‌ہے؟

سوال:۔

سب سے پہلا سوال عرض ہے کہ اِبلیس فرشتوں میں سے ہے یا جنات کی نسل سے؟ کیونکہ ہمارے ہاں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اِبلیس، اللہ کے مقرّب فرشتوں میں سے تھا، مگر حکم عدولی کی وجہ سے اللہ نے اسے اپنی بارگاہ سے نکال دیا، جبکہ جہاں تک میرا خیال ہے اِبلیس جنات میں سے ہے اور عبادت کی وجہ سے فرشتوں کے برابر کھڑا ہوگیا، مگر حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے دھتکار دیا گیا۔

جواب:۔

قرآن مجید میں ہے کہ: ﵟ كَانَ مِنَ ٱلۡجِنِّ ﵞ،(۱) یعنی شیطان جنات میں سے تھا، مگر کثرتِ عبادت کی وجہ سے فرشتوں میں شمار کیا جاتا تھا کہ تکبر کی وجہ سے مردود ہوا۔(۲)

  1. (۱) ﵟ كَانَ مِنَ ٱلۡجِنِّ فَفَسَقَ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهِۦٓۗ ﵞ الكهف ٥٠۔
  2. (۲) ﵟ أَبَىٰ وَٱسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ ٣٤ ﵞ البقرة ٣٤۔ وأیضًا: فسجدوا اِلّا اِبلیس ھو أبو الجنّ کان بین الملائكۃ ۔۔۔الخ۔ (جلالین ص:۸ سورۃ البقرۃ)۔ أیضًا: ولمن زعم أنہ لم یكن من الملائكۃ أن یقول إنہ کان جِنّیًّا نشأ بین أظھر الملائكۃ وکان مغمورًا بالألوف منھم فغلبوا علیہ، (قولہ وکان مغمورًا) أی مکثورًا ومغلوبًا بالألوف من الملائكۃ فغلبوا علیہ فتناول أمر الملائكۃ إیاہ، وصح استثناؤہ منھم أی من ضمیر فسجدوا استثناء متضلًا لأنہ تعالٰی لما غلبھم علیہ فسمّٰی الجمیع ملائكۃ لکونہ مغلوبًا ومستورًا بھم کان داخلًا فیھم بالتغلب فدخل تحت أمرھم۔ (تفسیر البیضاوی مع حاشیۃ شیخ زادہ ج:۱ ص:۵۳۱، ۵۳۳ سورۃ البقرۃ آیت:۳۴ طبع قدیمی)۔