جنات
’’جن‘‘عورتوںکاانسانمردوںسےتعلق
سوال:۔
میرے گاؤں کے نزدیک ایک شخص رہتا ہے، جب وہ چھوٹا تھا تو اس پر دورے پڑتے تھے، یہاں تک کہ سارا جسم خون سے تر ہوجاتا تھا، ہوتے ہوتے جب وہ جوان ہوا تو دورے پڑنے بند ہوگئے، چند سالوں بعد اس شخص نے بتایا کہ اس کے پاس ایک مادہ جن آئی جو کہ انتہائی خوبصورت لڑکی تھی اور مجھے تعویذ دیا کہ اس تعویذ کو چاندی میں بند کرکے اپنے جسم کے ساتھ باندھ لو اور جب بھی میری ضرورت پڑے تو اس تعویذ کو ماچس جلاکر تپش دو، میں حاضر ہوجایا کروں گی۔ اب ہمارے گاؤں اور گرد و نواح میں جب کوئی بیمار ہوجاتا ہے یا کوئی اور مشکل پیش آتی ہے تو اس آدمی کو بلا لاتے ہیں، وہ ماچس کی تیلی جلاکر اس تعویذ کو گرم کرلیتا ہے، چند منٹوں کے بعد حقہ طلب کرلیتا ہے اور اس کی آنکھیں بہت زیادہ سرخ ہوجاتی ہیں، پھر اس کی آواز عورت جیسی ہوجاتی ہے اور پوچھنے لگتی ہے کہ میرے معشوق کو کیوں تکلیف دی ہے؟ کیا تکلیف ہے تم کو؟ مولانا صاحب! آپ یقین نہیں کریں گے کہ بڑے بڑے اسپیشلسٹ ڈاکٹر جس مرض کی تشخیص نہیں کرسکتے یہ مادہ جن (بقول اس کے) چند منٹوں میں اس مرض کے بارے میں بتادیتی ہے کہ یہ فلاں مرض ہے اور اس کا علاج بھی بتادیتی ہے۔ اکثر لوگ شفایاب ہوتے ہیں۔
یہ شخص انتہائی سادہ انسان ہے اور اس کو ان دوائیوں کے بارے میں یقینا کچھ علم نہیں ہے، جب وہ اس مخصوص وقت میں اپنی زبان سے (جو اس وقت عورت کی طرح بولتا ہے) کہہ دیتا ہے، بہت سے مرضوں کا علاج ہوجاتا ہے۔ مولانا صاحب! میں ایک تعلیم یافتہ آدمی ہوں اور ان توہمات پر یقین نہیں رکھتا، لیکن اپنی آنکھوں سے میں نے یہ سب کچھ دیکھا ہے۔ برائے کرم قرآنِ حکیم اور احادیثِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں کہ مندرجہ بالا واقعات کس حد تک دُرست ہیں؟
جواب:۔
انسانوں پر جنات کے اثرات حق ہیں۔ قرآن و حدیث دونوں میں اس کا ذکر ہے،(۱) اور جن عورتوں کے انسان مردوں پر عاشق ہونے کے بھی بہت سے واقعات کتابوں میں لکھے ہیں، اس لئے آپ نے جو کہانی لکھی ہے وہ ذرا بھی لائقِ تعجب نہیں۔(۲)
- (۱) روی الْإمام أحمد فی مسندہ من حدیث أبی موسٰی قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: فناء اُمّتی بالطعن والطاعون، قالوا: یا رسول اللہ! ھٰذا الطعن قد عرفناہ، فما الطاعون؟ قال: وجز إخوانكم من الجنّ وفی کل شھادۃ ورواہ ابن ابی الدنیا فی کتاب الطواعین قال فیہ وخز أعدائكم من الجن۔ (آکام المرجان ص:۱۱۶، الباب الخامس والخمسون)۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: کتابِ ھٰذا کالباب السادس والخمسون، الباب السابع والخمسون، الباب الثامن والخمسـون۔ أیضًا قـال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن للشیطان لمۃ بابن آدم وللملك لمۃ فأما لمۃ الشیطان فإیعـاد بالـشر وتكذیب بالـحق، وأما لمۃ الملك فإیعاد بالخیر وتصدیق بالحق، فمن وجد ذٰلك فلیعلم أنہ من اللہ تعالٰی فیحمد اللہ تعالٰی، ومن وجد الأخریٰ فلیتعوذ باللہ من الشیطان ثم قرأ: الشیطان یعدكم الفقر ویأمركم بالفحشاء۔ (آکام المرجان ص:۱۷۹، الباب الرابع بعد المأۃ)۔
- (۲) حدثنا القاضی جلال الدین احمد بن القاضی حسام الدین الرازی الحنفی تغمدہ اللہ برحمتہ قال: سفرنی والدی لِاحضار أھلہ من الشرق، فلما جزت البیرہ الجأنا المطر إلٰی أن نمنا فی مغارۃ وكنت فی جماعۃ فبینا أنا نائم إذا أنا بشیء یوقظنی فانتبھت فإذا بامرأۃ وسط من النساء لھا عین واحد مشقوقۃ بالطول فارتعت، فقالت: ما علیك من بأس، إنما أتیتك لتتزوج ابنۃ لی کالقمر، فقلت لخوفی منھا علٰی خیرۃ اللہ تعالٰی ثم نظرت فإذا برجال قد أقبلوا فنظرتھم فإذا ھم کھیئۃ المرأۃ التی أتتنی عیونھم کلھا مشقوقۃ بالطول فی ھیئۃ قاض وشھود فخطب القاضی وعقد فقبلت ثم نھضوا وعادت المرأۃ ومعھا جاریۃ حسناء إلّا أن عینھا مثل عین اُمّھا وترکتھا عندی وانصرفت فزاد خوفی واستیحاشی وبقیت أرمی من کان عندی بالحجارۃ حتّٰی یستیقظوا فما انتبہ منھم أحد فأقبلت علی الدعاء والتضرع ثم آن الرحیل فرحلنا وتلك الشابۃ لَا تفارقنی فدمت علٰی ھٰذا ثلاثۃ أیام فلما کان الیوم الرابع أتتنی المرأۃ وقالت: کأن ھٰذہ الشابۃ ما أعجبتك وکأنك تحب فراقھا، فقلت: إی واللہ! قالت: فطلّقھا! فطلقتھا فانصرفت ثم لم أرھما بعد۔ (آکام المرجان ص:۷۰، الباب الموفی ثلاثین)۔ نیز تفصیل دیکھئے: آکام المرجان فی أحکام الجانّ، الباب الموفی ثلاثین فی بیان مناكحہ الجنّ، ص:۶۶ تا ۷۴۔

