جنات
جناتکاآدمیپرمسلطہوجانا
سوال:۔
کیا کسی اِنسان کے جسم میں کوئی جن داخل ہوکر اسے پریشان کرسکتا ہے؟ اگر نہیں کرسکتا تو پھر آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ ایک شخص جس پر جن کا سایہ ہوتا ہے (لوگوں کے مطابق) وہ ایسی جگہ کی نشاندہی کرتا ہے جہاں وہ کبھی گیا نہیں ہوتا اور ایسی زبان بولتا ہے جو اس نے کبھی سیکھی نہیں، یا پھر ایک اجنبی شخص کے پوچھنے پر اس کے ماضی کے بالکل صحیح حالات اور واقعات بتاتا ہے۔ اس نے قرآن شریف پڑھنا سیکھا ہی نہیں ہوتا مگر بڑی روانی سے تلاوت کرتا ہے، آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟
جواب:۔
جنات کا آدمیوں پر مسلط ہونا ممکن ہے اور اس کے واقعات متواتر ہیں۔(۱)
- (۱) أنکر طائفۃ من المعتزلۃ کالجبائی وأبی بکر الرازی محمد بن زکریا الطبیب وغیرھما دخول الجنّ فی بدن المصروع، وأحالوا وجود روحین فی جسد مع اقرارھم بوجود الجن، اذ لم یكن ظھور ھذا فی المنقول عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم كظھور ھٰذا وھٰذا الذی قالوہ خطأ، وذکر أبو الحسن الأشعری فی مقالَات أھل السُّنَّۃ والجماعۃ انھم یقولون أن الجنّ تدخل فی بدن المصروع كما قال اللہ تعالٰی: ﵟ ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ ٱلرِّبَوٰاْ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِي يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مِنَ ٱلۡمَسِّۚ ﵞ ۔۔۔الخ۔ (ص:۱۰۷ الباب الحادی والخمسون: فی بیان دخول الجن فی بدن المصروع طبع نور محمد کراچی)۔ قال عبداللہ بن أحمد بن حنبل قلت لأبی: أن قومًا یقولون ان الجنّ لَا تدخل فی بدن الْإنس، قال: یا بنی! یكذبون ھوذا یتكلم علٰی لسانہ، قلت: ذکر الدارقطنی ۔۔۔ عن ابن عباس ان إمرأۃ جاءت بإبن لھا إلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقالت: یا رسول اللہ! ان ابنی بہ جنون وانہ یأخذہ عندنا غدائنا وعشائنا فمسح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدرہ ودعا لہ فتفتفہ فخرج من جوفہ مثل الجر والأسود فسعٰی۔ رواہ أبو محمد عبداللہ بن عبدالرحمٰن الدارمی ۔۔۔ وسیأتی إن شاء اللہ تعالٰی عن قریب حدیث اُمّ أبان الذی رواہ أبوداوٗد وغیرہ وفیہ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أخرج عدو اللہ، وھٰكذا حدیث اسامۃ بن زید، وفیہ: أخرج یا عدو اللہ فإنی رسول اللہ! (آکام المرجان ص:۱۰۷ الباب الحادی والعشرون)۔ وقد ورد لہ أصل فی الشرح وھو ما رواہ الْإمام أحمد وأبوداوٗد وأبو القاسم الطبرانی من حدیث اُمّ أبان بنت الوازع عن أبیھا أن جدھا انطلق إلٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بإبن لہ مجنون أو ابن أخت لہ فقال: یا رسول اللہ! ان معی ابنًا لی أو ابن أخت لی مجنون، أتیتك بہ لتدعو اللہ تعالٰی لہ، قال: إئتنی بہ! قال: فانطلقت بہ إلیہ وھو فی الرکاب فأطلقت عنہ وألقیت علیہ ثیاب السفر وألبستہ ثوبین حسنین وأخذت بیدہ حتی انتھیت بہ إلٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: أدنہ منی واجعل ظھرہ مما یلینی، فال: فأخذ بمجامع ثوبہ من أعلاہ وأسفلہ فجعل یضرب ظھرہ حتّٰی رأیت بیاض ابطیہ ویقول: أخرج عدو اللہ! فأقبل ینظر نظر الصحیح لیس ودعا لہ فلم یكن فی الوقد أحد بعد دعوۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یفضل علیہ۔ فقد روی ابن عساکر فی الثانی من کتاب الأربعین الطوال حدیث أسامۃ بن زید قال حججنا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امرأۃ تحمل صبیًّا لھا فسلمت علٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو یسیر علٰی راحلتہ ثم قالت: یا رسول اللہ! ھٰذا ابنی فلان والذی بعثك بالحق ما أبقی من خفق واحد من لدن أنی ولدتہ إلٰی ساعتہ ھٰذہ۔ حبس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الراحلۃ فوقف ثم اكسع إلیھا فبسط إلیھا یدہ وقال ھاتیہ فوضعتہ علٰی یدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضمہ إلیہ فجعلہ بینہ وبین واسطۃ الرحل ثم تفل فی فیہ وقال: اخرج یا عدو اللہ فإنی رسول اللہ! ثم ناولھا إیاہ فقال: خذیہ فلن ترین منہ شیئًا تکرھینہ بعد ھٰذا إن شاء اللہ۔ الحدیث۔ وفی أوائل مسند أبی محمد الداری من حدیث أبی الزبیر عن جابر معناہ وقال فیہ: إخسأ عدو اللہ أنا رسول اللہ! (آکام المرجان ص:۱۱۳، ۱۱۴ الباب الثالث والخمسون طبع نور محمد)۔

