بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جنات

اہلِ‌اِیمان‌کو‌جنات‌کا‌وجود‌تسلیم‌کئے‌بغیر‌چارہ‌نہیں

سوال:۔

آج کل ہمارے یہاں جنات کے وجود کے بارے میں بحث چل رہی ہے اور اب تک اس سلسلے میں مذہبی، سائنسی، منطقی اور عقلی نظریات سامنے آئے ہیں۔ یہ سب نظریات نوعیت کے اعتبار سے جدا جدا ہیں، لہٰذا ماسوائے مذہبی نظریات کے دُوسروں پر یقین یا غور کرنا بہت سی ذہنی کشمکشوں کو جنم دیتا ہے، جبکہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا عقیدہ اپنے مذہبی نظریات پر ہی یقین کامل کرنے کا ہے۔ لہٰذا آپ براہِ مہربانی قرآنی دلائل یا سچے اور حقیقی واقعات کی روشنی میں یا اگر احادیث کی روشنی میں جنوں کا وجود ثابت ہو تو اس بارے میں صحیح صورتِ حال اور نظریہ سامنے لائیں، تاکہ لوگوں کے اَذہان کو اس بارے میں پیدا ہوجانے والی کشمکش اور تذبذب سے نجات دِلائی جاسکے۔

جواب:۔

قرآنِ کریم میں صرف سورۂ رحمن میں ۲۹ جگہ جنوں کا ذکر آیا ہے، اور اَحادیث میں بھی بہت سے مقامات پر ان کا تذکرہ آیا ہے، اس لئے جو لوگ قرآنِ کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان رکھتے ہیں ان کو تو جنات کا وجود تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں، اور جو لوگ اس کے منکر ہیں ان کے پاس نفی کی کوئی دلیل اس کے سوا نہیں کہ یہ مخلوق ان کی نظر سے اوجھل ہے۔(۱)

  1. (۱) گزشتہ صفحے کے حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔