بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جنات

جنات‌کا‌وجود‌قرآن‌و‌حدیث‌سے‌ثابت‌ہے

سوال:۔

کیا جنات اِنسانی اَجسام میں محلول ہوسکتے ہیں جبکہ جنات ناری مخلوق ہیں اور وہ آگ میں رہتے ہیں اور اِنسان خاکی مخلوق ہے۔ جس طرح انسان آگ میں نہیں رہ سکتا تو جنات کس طرح خاک میں رہ سکتے ہیں؟ بہت سے مفکرین اور ماہرِ نفسیات جنات کے وجود کے بارے میں اختلاف رکھتے ہیں، اس لئے یہ مسئلہ توجہ طلب ہے۔

جواب:۔

جنات کا وجود تو برحق ہے، قرآنِ کریم اور احادیث شریفہ میں ان کا ذکر بہت سی جگہ موجود ہے،(۱) اور کسی جن کا اِنسان کو تکلیف پہنچانا بھی قرآنِ کریم، احادیث شریفہ نیز اِنسانی تجربات سے ثابت ہے،(۲) جو لوگ جنات کے وجود کا اِنکار کرتے ہیں، ان کی بات صحیح نہیں۔(۳) باقی رہا جنات کا کسی آدمی میں حلول کرنا! سو اوّل تو وہ بغیر حلول کے بھی مسلط ہوسکتے ہیں، پھر ان کے حلول کرنے میں کوئی اِستبعاد نہیں،(۴) ان کے آگ سے پیدا ہونے کے یہ معنی نہیں کہ وہ خود بھی آگ ہیں، بلکہ آگ ان کی تخلیق پر غالب ہے جیسے انسان مٹی سے پیدا ہوا ہے مگر وہ مٹی نہیں۔(۵)

  1. (۱) ﵟ وَمَا خَلَقۡتُ ٱلۡجِنَّ وَٱلۡإِنسَ إِلَّا لِيَعۡبُدُونِ ٥٦ ﵞ الذاريات ٥٦۔ فصل قال الشیخ ابوالعباس ابن تیمیۃ لم یخالف أحد من طوائف المسلمین فی وجود الجن وجمھور طوائف الکفار علٰی اثبات الجِنّ ۔۔۔ ھٰذا لأن وجود الجن تواترت بہ أخبار الأنبیاء علیھم السلام تواترًا معلومًا۔ (آکام المرجان فی غرائب الأخبار وأحکام الجانّ ص:۵)۔
  2. (۲) الباب السادس والأربعون: فی بیان ما یعتصم بہ من الجنّ ویندفع بہ شرھم: وذٰلك فی عشر حروز (أحدھما) الْإستعاذۃ باللہ منہ: قال اللہ تعالٰی: ﵟ وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ نَزۡغٞ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ٣٦ ﵞ فصلت ٣٦۔ وفی موضع آخر: ﵟ وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ نَزۡغٞ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ٢٠٠ ﵞ الأعراف ٢٠٠۔ وفی الصحیح ۔۔۔ فقال صلی اللہ علیہ وسلم: اِنّی لأعلم کلمۃ لو قالھا لذھب عندما یجد: أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ الثانی قراءۃ المعوذتین روی الترمذی ۔۔۔ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یتعوّذ من الجانّ وعین الْإنسان حتّٰی نزلت المعوذتان ۔۔۔الخ۔ تفصیل کے لئے دیکھئے: آکام المرجان ص:۹۵ تا ۹۸۔ الباب فی بیان اِخبار الجن یقتلھم سعد بن عبادۃ ۔۔۔الخ۔ تفصیل دیکھئے: آکام المرجان ص:۱۳۷ پر، طبع نور محمد کراچی۔
  3. (۳) (قال امام الحرمین) فی کتابہ الشامل: اعلموا رحمکم اللہ أن کثیرًا من الفلاسفۃ وجماھیر القدریۃ وکافۃ الزنادقۃ أنکروا الشیاطین والجنّ رأسًا ولَا یبعد لو أنکر ذٰلك من لَا یتدبر ولَا یتشبث بالشریعۃ وانما العجب من انکار القدریۃ مع نصوص القرآن وتواتر الأخبار واستفاضۃ الآثار۔ (آکام المرجان ص:۳، طبع نور محمد کراچی)۔
  4. (۴) أنکر طائفۃ من المعتزلۃ کالجبائی وأبی بکر الرازی ۔۔۔ وھٰذا الذی قالوہ خطأٌ، وذکر أبو الحسن الأشعری فی مقالَات أھل السُّنّۃ والجماعۃ، انھم یقولون ان الجنّ تدخل فی بدن المصروع كما قال تعالٰی: ﵟ ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ ٱلرِّبَوٰاْ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِي يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مِنَ ٱلۡمَسِّۚ ﵞ البقرة ٢٧٥۔۔۔ الخ۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھیں: آکام المرجان ص: ۱۰۷ تا ۱۰۹۔
  5. (۵) اعلم: أن اللہ أضاف الشیاطین والجن إلی النار حسب ما أضاف الْإنسان إلی التراب والطین والفخار، والمراد بہ فی حق الْإنسان أن أصلہ الطین ولیس الآدمی طینًا حقیقۃً لٰـكنہ کان طینًا كذٰلك الجان کان نارًا فی الأصل، والدلیل علٰی ذٰلك قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔إلخ۔ (آکام المرجان فی غرائب الأخبار وأحکام الجان ص:۱۳ الباب الثالث)۔