جنات
جناتکےلئےرسول
سوال:۔
کہا جاتا ہے کہ انسانوں میں انسان ہی رسول ہوتا ہے اور یہ امر ربی ہے، جیسا کہ سورہ بنی اسرائیل کی آیت: ۹۶،۹۵ میں فرمایا:
ترجمہ:۔’’اور لوگوں کو کوئی چیز ایمان لانے سے مانع نہیں ہوئی، جب ان کے پاس ہدایت آئی، مگر یہ کہ انہوں نے کہا اللہ نے ایک انسان کو رسول بنا کر بھیجا ہے، کہہ اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چلتے پھرتے تو ضرور ہم ان پر آسمان سے فرشتہ رسول بنا کر بھیجتے۔‘‘
اس آیت کی روشنی میں وضاحت فرمائیے کہ حدیث میں ایک جگہ ذکر آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ سے ملاقات کی تھی اور انہوں نے اسے جنوں کا گروہ قرار دیا تھا، کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں کے علاوہ جنوں کی طرف بھی رسول تھے، یا جنات کے لئے جن ہی رسول ہونا چاہئے؟
جواب:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنوں کے لئے بھی رسول تھے،(۱) قرآنِ کریم میں جنات کا بارگاہ عالی میں حاضر ہوکر قرآن کریم سننااور ایمان لانا مذکور ہے۔(۲) (سورۃ احقاف) فرشتے کھانے پینے وغیرہ کی ضروریات سے پاک ہیں، اس لئے ان کو اِنسانوں کے لئے نبی نہیں بنایا گیا،(۳) جنات کے لئے انسانوں کو نبی بنایا گیا ، جنات کے لئے جن کا رسول بنایا جانا منقول نہیں۔(۴)
- (۱) الجمھور علٰی أنہ لم یكن من الجن نبی ۔۔۔ قال البغوی فی تفسیر الأحقاف: وفیہ دلیل علٰی أنہ علیہ السلام کان مبعوثًا إلی الْإنس والجن جمیعًا۔ (الأشباہ والنظائر، أحکام الجان ص:۳۲۳ طبع قدیمی)۔
- (۲) ﵟ وَإِذۡ صَرَفۡنَآ إِلَيۡكَ نَفَرٗا مِّنَ ٱلۡجِنِّ يَسۡتَمِعُونَ ٱلۡقُرۡءَانَ فَلَمَّا حَضَرُوهُ قَالُوٓاْ أَنصِتُواْۖ فَلَمَّا قُضِيَ وَلَّوۡاْ إِلَىٰ قَوۡمِهِم مُّنذِرِينَ ﵞالأحقاف ٢٩۔۔۔ﵟ يَٰقَوۡمَنَآ أَجِيبُواْ دَاعِيَ ٱللَّهِ وَءَامِنُواْ بِهِۦ ﵞ الأحقاف ٣١۔
- (۳) وقالوا یعنی المشرکین (ما لھٰذا الرسول یأكل الطعام) أنکروا أن یکون الرسول بشرًا یأكل الطعام ویمشی فی الطُّرق كما یمشی سائر الناس یطلب المعیشۃ، والمعنی أنہ لیس بملَك ولَا ملِك لأن الملائكۃ لَا تأكل، والملوك لَا تتبذّل فی الأسواق، فعجبوا أن یکون مساویًا للبشر لَا یتمیّز علیھم بشیء وإنما جعلہ اللہ بشرًا لیکون مجانسا للذین أرسل إلیھم۔ (تفسیر زاد المسیر ج:۶ ص:۷۳، ۷۴، طبع المکتب الْإسلامی، بیروت)۔
- (۴) جمھور العلماء سلفًا وخلفًا علٰی أنہ لم یكن من الجن قط رسول ولم تكن الرسول إلّا من الْإنس ۔۔۔ أن رسل الْإنس رسل من اللہ تعالٰی إلیھم ورسل إلٰی قوم من الجن لیسوا رسلًا عن اللہ تعالٰی ولٰـكن بعثھم اللہ تعالٰی فی الأرض فسمعوا کلام رسل اللہ تعالٰی الذین ھم من بنی آدم وعادوا إلٰی قومھم من الجن فأنذروھم واللہ سبحانہ وتعالٰی أعلم۔ (آکام المرجان فی غرائب الأخبار وأحکام الجانّ ص:۳۴-۳۶ طبع نور محمد کراچی)۔

