بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعویذ‌گنڈے‌اور‌جادو

سفلی‌عمل‌کرنے‌اور‌کرانے‌کا‌گناہ

سوال:۔

جادو، ٹونہ یا سفلی عمل کرانے والے لوگوں سے متعلق سوال کے جواب میں آپ نے ’’اقرأ صفحہ جنگ‘‘ ۲۰؍جنوری ۱۹۸۹ء جمعہ میں لکھا ہے کہ: ’’ایسے لوگ سخت گناہگار ہیں‘‘ جبکہ عام کہاوت ہے کہ جادو ٹونہ یا سفلی عمل کرنے اور کرانے والے دونوں کافر ہیں۔ اب اگر کوئی شخص خود دُوسرے کو بتادے کہ اوّل الذکر نے دُوسرے پر سفلی کراکے اذیت پہنچائی تھی، تو اب سوال یہ ہے کہ آیا دُوسرا بھی بدلے میں سفلی عمل کراکر کافر تو نہ ہوگا، گناہ اسے ضرور ویسے ہی ہوگا جیسے پہلے کرنے والے کو ہوا۔ قرآن میں ہے کہ: ’’پس تم عقوبت دو اتنی جتنی تم کو عقوبت پہنچائی گئی‘‘ اس میں شک نہیں کہ صبر کرنا ہی بہتر ہوگا، مگر ظلم پر ظلم سہہ کر اور ظلم کا منبع جانتے ہوئے انسانی نفسیات میں بدلے کے جذبات اُبھرتے ہیں، کیا یہ ٹھیک ہے؟

جواب:۔

اگر کوئی جادو یا سفلی عمل جائز سمجھ کر کرتا ہے تو کافر ہے، اور اگر گناہ سمجھتا ہے تو کافر تو نہیں، لیکن بہت بڑے گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔(۱) اس گندے عمل سے اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو بچائے۔ کسی کے سفلی عمل کا توڑ کرنا تو جائز ہے، لیکن بدلہ چکانے کے لئے اس پر سفلی عمل کرنا جائز نہیں۔(۲) یہ شخص بھی اتنا ہی گناہگار ہوگا جتنا کہ پہلا شخص۔ قرآنِ کریم کی جس آیت کا آپ نے حوالہ دیا، اس سے گناہ کے کام مراد نہیں، بلکہ وہ سزا مراد ہے جو جائز اور حلال ہو۔(۳)

  1. (۱) السحر حرام بلا خلاف بین أھل العلم، واعتقاد اباحتہ کفر۔ (فتاویٰ شامیہ ج:۴ ص:۲۴۰، مطلب فی الساحر)۔
  2. (۲) فعل السحر حرام وھو من الكبائر بالْإجماع۔ (شرح نووی علٰی مسلم ج:۲ ص:۲۲۱، طبع قدیمی کراچی)۔
  3. (۳) ﵟ وَإِنۡ عَاقَبۡتُمۡ فَعَاقِبُواْ بِمِثۡلِ مَا عُوقِبۡتُم بِهِۦۖ وَلَئِن صَبَرۡتُمۡ لَهُوَ خَيۡرٞ لِّلصَّٰبِرِينَ ١٢٦ ﵞ النحل ١٢٦ وفی التفسیر: یأمر تعالٰی بالعدل فی الْإقتصاص والمماثلۃ فی إستیفاء الحق۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۴ ص:۷۹، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔