بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعویذ‌گنڈے‌اور‌جادو

جو‌جادو‌یا‌سفلی‌عمل‌کو‌حلال‌سمجھ‌کر‌کرے‌وہ‌کافر‌ہے

سوال:۔

کوئی آدمی یا عورت کسی پر تعویذ، دھاگہ، سفلی عمل یا پھر جادو کا استعمال کرے اور اس کے اس عمل سے دُوسرے آدمی کو تکلیف پہنچے یا پھر اگر وہ آدمی اس تکلیف سے انتقال کرجائے تو خداوند تعالیٰ کے نزدیک ان لوگوں کا کیا درجہ ہوگا؟ چاہے وہ تکلیف میں ہی مبتلا ہوں یا انتقال ہوجائے، کیونکہ آج کل کالے عمل کا رواج زیادہ عروج کر رہا ہے لہٰذا مہربانی فرماکر تفصیل سے لکھنا، تاکہ اس کالے دھندے کرنے اور کرانے والوں کو اپنا انجام معلوم ہوسکے، اللہ ان لوگوں کو نیک ہدایت دے، آمین!

جواب:۔

جادو اور سفلی عمل کرنا اس کے بدترین گناہ ہونے میں تو کسی کا اختلاف نہیں۔(۱) البتہ اس میں اختلاف ہے کہ جادو کرنے سے آدمی کافر ہوجاتا ہے یا نہیں؟ صحیح یہ ہے کہ اگر اس کو حلال سمجھ کر کرے تو کافر ہے اور اگر حرام اور گناہ سمجھ کر کرے تو کافر نہیں، گناہ گار اور فاسق ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ایسے سفلی اعمال سے دِل سیاہ ہوجاتا ہے، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس آفت سے بچائے۔ یہ بھی فقہائے اُمت نے لکھا ہے کہ اگر کسی کے جادو اور سفلی عمل سے کسی کی موت واقع ہوجائے تو یہ شخص قاتل تصوّر کیا جائے گا۔(۲)

  1. (۱) السحر حرام بلا خلاف بین أھل العلم واعتقاد إباحتہ کفر۔۔۔الخ۔ (فتاویٰ شامی ج:۴ ص:۲۴۰، مطلب فی الساحر)۔
  2. (۲) ثم اختلف ھؤلَاء: ھل یستتاب أم لَا؟ وھل یکفر بالسحر؟ أم یقتل لسعیہ فی الأرض بالفساد؟ وقال طائفۃ ان قتل بالسحر یقتل واِلّا عوقب بدون القتل اذا لم یكن فی قولہ وعملہ کفر۔ (شرح عقیدۃ الطحاویۃ ص:۵۶۹، طبع لَاھور)۔