تعویذگنڈےاورجادو
جادوکرناگناہِکبیرہہے،اسکاتوڑآیاتِقرآنیہیں
سوال:۔
کیا قرآن و سنت کی رُو سے جادو برحق ہے؟ اور کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی جادو کے زور سے کسی کو بُرے راستے پر گامزن کردے یا یہ کہ کوئی جادو کے ذریعے کسی کا بُرا چاہے اور دُوسرے کو مصیبت اور پریشانی میں مبتلا کردے۔ میں اس سلسلے میں یہ عرض کرنا چاہوں گی کہ جو لوگ جادو کے برحق ہونے کے حق میں دلائل دیتے ہیں، وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی چل گیا تھا، تو ہم تو معمولی سے بندے ہیں اور اس سلسلے میں سورۂ فلق کا حوالہ دیا جاتا ہے، آپ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
سوال:۔
جو حضرات جن میں بزرگانِ دِین بھی شامل ہوتے ہیں اور جو جادو کا اُتار کرنے کی خاطر تعویذ وغیرہ دیتے ہیں، کیا ان کے پاس جاکر اپنی مشکلات بیان کرنا اور ان سے مدد چاہنا شرک کے زُمرے میں آتا ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو نادانستگی میں ایسا کرنے والوں کے لئے کفارۂ گناہ کیا ہوسکتا ہے؟
جواب:۔
جادو چل جاتا ہے،(۱) اور اس کا اثرانداز ہونا قرآنِ کریم میں مذکور ہے،(۲) مگر جادو کرنا گناہِ کبیرہ ہے،(۳) اور جادو کرنے اور کرانے والے دونوں ملعون ہیں۔ قرآنِ کریم نے جادو کو کفر فرمایا ہے، گویا ایسے لوگوں کا ایمان سلب ہوجاتا ہے۔(۴)
جواب:۔
جادو کا توڑ کرانے والوں کے لئے کسی ایسے شخص سے رُجوع کرنا جو اس کا توڑ جانتا ہو، جائز ہے، بشرطیکہ وہ جادو کا توڑ جادو اور سفلی عمل سے نہ کرے، بلکہ آیاتِ قرآنی سے کرے، یہ شرک کے زُمرے میں نہیں آتا۔(۵)
- (۱) السحر حق عندنا وجودہ وتصورہ وأثرہ۔ (الفتاویٰ الشامیۃ ج:۱ ص:۴۴)۔
- (۲) ﵟ فَلَمَّآ أَلۡقَوۡاْ سَحَرُوٓاْ أَعۡيُنَ ٱلنَّاسِ وَٱسۡتَرۡهَبُوهُمۡ وَجَآءُو بِسِحۡرٍ عَظِيمٖ ١١٦ ﵞ الأعراف ١١٦۔
- (۳) فعل السحر حرام وھو من الكبائر بالْإجماع۔ (شرح نووی علٰی مسلم ج:۲ ص:۲۲۱، طبع قدیمی)۔
- (۴) ﵟ وَلَٰكِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ كَفَرُواْ يُعَلِّمُونَ ٱلنَّاسَ ٱلسِّحۡرَ ﵞ البقرة ١٠٢۔
- (۵) فی الدر المختار: استأجرہ لیکتب لہ تعویذًا لأجل السحر جاز۔ قولہ لأجل السحر أی لأجل إبطالہ وإلّا فالسحر نفسہ معصیۃ بل کفر لَا یصح الْإستئجار علیہ۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۹۳)۔

