تعویذگنڈےاورجادو
تعویذکامعاوضہجائزہے
سوال:۔
کسی بھی جائز ضرورت کے لئے کسی بھی شخص کا بالعوض دُعا، تعویذ وغیرہ پر کچھ رقم طلب کرنے پر دینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر کوئی شخص جو بلحاظ عمر و بیماری ضرورت مند ہونے کے لئے دُعا تعویذ و غیرہ دینے کے بعد صرف معمولی معاوضہ اپنی حاجت کے لئے طلب کرے تو ایسی صورت میں اس کی دُعائیں اور یہ عمل قابلِ قبول ہوگا یا نہیں؟
جواب:۔
دُعا تو عبادت ہے اور اس کا معاوضہ طلب کرنا غلط ہے۔(۱) باقی وظیفہ و تعویذ جو کسی دُنیوی مقصد کے لئے کیا جائے اس کی حیثیت عبادت کی نہیں بلکہ ایک دُنیوی تدبیر اور علاج کی ہے۔ اس کا معاوضہ لینا دینا جائز ہے۔(۲) باقی ایسے لوگوں کے وظیفے اور تعویذ کارگر بھی ہوا کرتے ہیں یا نہیں؟ یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں، جس کے بارے میں کچھ عرض کیا جائے، البتہ تجربہ یہ ہے کہ ایسے لوگ اکثر دُکاندار ہوتے ہیں۔
- (۱) الأصل أن کل طاعۃ یختص بھا المسلم لَا یجوز الْإستئجار علیھا عندنا۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۵۵)۔
- (۲) قولہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’خذوا منھم واضربوا لی بسھم معكم‘‘ ھٰذا تصریح بجواز أخذ الاُجرۃ علی الرقیۃ بالفاتحۃ والذکر وانھا حلال لَا کراھیۃ فیھا ۔۔۔ الخ۔ (شرح نووی علیٰ مسلم ج:۲ ص:۲۲۴، طبع قدیمی)۔ الاُجرۃ علی التعوذ والرقیۃ وھی حلال لعدم کونھا عبادۃ۔ (فیض الباری ج:۳ ص:۲۷۶، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔

