بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعویذ‌گنڈے‌اور‌جادو

حق‌کام‌کے‌لئے‌تعویذ‌لکھنا‌دُنیوی‌تدبیر‌ہے،‌عبادت‌نہیں

سوال:۔

ہمارے ایک بزرگ ہیں ان کا خیال ہے کہ تعویذ لکھنا از رُوئے شریعت جائز نہیں، چاہے وہ کسی کام کے لئے ہوں۔ مثلاً: حاجت روائی، ملازمت کے سلسلے میں وغیرہ وغیرہ۔ ان کا یہ بھی فرمانا ہے کہ قرآن پاک میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں ہے کہ فلاں آیت کو لکھ کر گلے میں لٹکانے سے یا بازُو میں باندھنے سے آدمی کی کوئی ضرورت پوری ہوجاتی ہے، صرف اللہ تعالیٰ کی مدد پر یقین رکھنا چاہئے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ تعویذوں میں اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب کی آیات لکھی جاتی ہیں، یہ صحیح ہے کہ کئی لوگ ان کا غلط استعمال کرتے ہیں، لیکن جائز کام کے لئے تو انہیں لکھا جاسکتا ہے۔

جواب:۔

قرآنی آیات پڑھ کر دَم کرنے کا اَحادیثِ طیبہ میں ذکر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ اور بعد کے صلحاء کا یہ معمول رہا ہے،(۱) تعویذ بھی اسی کی ایک شکل ہے۔ اس لئے اس کے جواز میں تو شبہ نہیں،(۲) البتہ تعویذ کی حیثیت کو سمجھ لینا ضروری ہے۔ بعض لوگ تعویذ کی تأثیر کو قطعی یقینی سمجھتے ہیں، یہ صحیح نہیں، بلکہ تعویذ بھی من جملہ اور تدابیر کے ایک علاج اور تدبیر ہے اور اس کا مفید ہونا، نہ ہونا اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے۔ بعض لوگ تعویذ کو ’’رُوحانی عمل‘‘ سمجھتے ہیں، یہ خیال بھی قابلِ اصلاح ہے، رُوحانیت اور چیز ہے اور تعویذ وغیرہ محض دُنیوی تدبیر و علاج ہے، اس لئے جو شخص تعویذ کرتا ہو اس کو بزرگ سمجھ لینا غلطی ہے۔ بعض لوگ دُعا پر اتنا یقین نہیں رکھتے جتنا کہ تعویذ پر، یہ بھی قابلِ اصلاح ہے، دُعا عبادت ہے اور تعویذ کرنا کوئی عبادت نہیں، اور کسی ناجائز مقصد کے لئے تعویذ کرانا حرام ہے۔(۳)

  1. (۱) وعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ کان یعوّذ نفسہ قال رضی اللہ عنہ: وعلی الجواز عمل الناس الیوم وبہ وردت الآثار۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۳۶۴، فصل فی اللبس)۔
  2. (۲) جوّزوا الرقیۃ بالاُجرۃ ولو بالقرآن كما ذکرہ الطحاوی لأنھا لیست عبادۃ محضۃ بل من التداوی۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۵۷، مطلب تحریر مھم فی عدم جواز الْإستئجار علی التلاوۃ والتھلیل ۔۔۔إلخ)۔
  3. (۳) الأمور بمقاصدھا ۔۔۔ فلو أن الفاعل المکلف قصد بالفعل الذی فعلہ أمرًا مباحًا کان مباحًا، وإن قصد أمرًا محرمًا کان فعلہ محرمًا۔ (شرح المجلۃ ص:۱۸، رقم المادّۃ:۲، طبع کوئٹہ)۔