بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعویذ‌گنڈے‌اور‌جادو

ناجائز‌کام‌کے‌لئے‌تعویذ‌بھی‌ناجائز‌ہے،‌لینے‌والا‌اور‌دینے‌والا‌دونوں‌گناہ‌گار‌ہوں‌گے

سوال:۔

ہمارے محلے میں ایک مولوی صاحب رہتے ہیں جو کسی زمانے میں اِمامِ مسجد ہوا کرتے تھے، آج کل تعویذ گنڈوں کا کام کرتے ہیں اور ان کے پاس ہر وقت بہت بھیڑبھاڑ رہتی ہے، زیادہ تر رش عورتوں کا ہوتا ہے، جن کی فرمائشیں کچھ اس طرح ہوتی ہیں، مثلاً: فلاں کا بچہ مرجائے، فلاں کا کاروبار بند ہوجائے، میرا خاوند مجھے طلاق دے دے، فلاں کی ساس مرجائے۔ کیا اس طرح تعویذ کرانے صحیح ہیں؟ اس میں کون گناہ گار ہوگا؟

جواب:۔

جائز کام کے لئے تعویذ جائز ہے، اور ناجائز کام کے لئے ناجائز۔(۱) ناجائز تعویذ کرنے اور کرانے والے دونوں برابر کے گناہ گار ہیں۔

  1. (۱) الأمور بمقاصدھا: یعنی ان الحكم الذی یترتب علٰی أمر یکون علٰی مقتضٰی ما ھو المقصود ۔۔۔ فلو ان الفاعل المکلف قصد بالفعل الذی فعلہ أمرًا مباحًا کان مباحًا وإن قصد أمرًا محرمًا کان فعلہ محرمًا۔ (شرح المجلۃ ص:۱۸)۔