بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعویذ‌گنڈے‌اور‌جادو

تعویذ‌گنڈا‌صحیح‌مقصد‌کے‌لئے‌جائز‌ہے

سوال:۔

’’تعویذ گنڈا شرک ہے‘‘ اس عنوان سے ایک کتابچہ کیپٹن ڈاکٹر مسعودالدین عثمانی نے توحید روڈ کیماڑی کراچی سے شائع کیا ہے، انہوں نے یہ حدیث نقل کی ہے:

’’إِنَّ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَۃَ شِرْك۔ رواہ أبوداوٗد‘‘ (مشکوٰۃ ص:۳۸۹)

(ترجمہ) تعویذ اور تولہ (یعنی ٹونا، منتر) سب شرک ہیں۔

انہوں نے بعض واقعات اور حدیث سے ثابت کیا ہے کہ قرآنی آیت بھی گلے میں نہیں لٹکانی چاہئے، پانی وغیرہ پر دَم بھی نہیں کرنا چاہئے، اس سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ یہ کام عام طور پر سب کرتے ہیں، اگر یہ سب شرک ہے تو پھر یہ سب باتیں ہم کو چھوڑنی ہوں گی۔ آپ اپنی رائے سے جلد از جلد مطلع فرمائیں، تاکہ عوام اس سے باخبر ہوں اور شرک جیسے عظیم گناہ سے بچ جائیں۔

جواب:۔

ڈاکٹر صاحب نے غلط لکھا ہے! قرآنی آیات کا تعویذ جائز ہے جبکہ غلط مقاصد کے لئے نہ کیا گیا ہو۔ حدیث میں جن ٹونوں، ٹوٹکوں کو شرک فرمایا گیا ہے، ان سے زمانۂ جاہلیت میں رائج شدہ ٹونے ٹوٹکے مراد ہیں، جن میں مشرکانہ الفاظ پائے جاتے تھے،(۱) اور جنات وغیرہ سے اِستعانت حاصل کی جاتی تھی۔ قرآنی آیت پڑھ کر دَم کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت ہے،(۲) اور بزرگانِ دِین کے معمولات میں شامل ہے۔

  1. (۱) عن عوف بن مالك الأشجعی قال: كنا نرقی فی الجاھلیۃ فقلنا: یا رسول اللہ! کیف تری فی ذالك؟ فقال: اعرضوا علیَّ رقاكم لَا بأس بالرقٰی ما لم یكن فیہ شرك۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۳۸۸، کتاب الطب والرقٰی)۔
  2. (۲) عن أبی سعید الخدری قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یتعوّذ من الجانّ وعین الْإنسان حتّٰی نزلت المعوّذتان، فلما نزلت أخذ بھما وترك ما سواھما۔ رواہ الترمذی وابن ماجۃ۔ (مشكٰوۃ ص:۳۹۰، کتاب الطب والرقٰی)۔