بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعویذ‌گنڈے‌اور‌جادو

کیا‌حدیث‌پاک‌میں‌تعویذ‌لٹکانے‌کی‌ممانعت‌آئی‌ہے

سوال:۔

ایک دُکان پر کچھ کلمات لکھے ہوئے دیکھے جو درج ذیل ہیں: ’’جس نے گلے میں تعویذ لٹکایا اس نے شرک کیا‘‘ اور ساتھ ہی مذکورہ حدیث لکھی تھی: ’’مَنْ عَلَّقَ تَمِيْمَةً فَقَدْ أَشْرَك‘‘ (مسند احمد) گزارش یہ ہے کہ یہ صحیح ہے یا غلط؟ حدیثِ مذکورہ کا کیا درجہ ہے؟ اگر اس کا ذکر کہیں نہ ہو تو بھی درخواست ہے کہ گلے میں تعویذ پہننا کیسا ہے؟

جواب:۔

یہ حدیث صحیح ہے، مگر اس میں تعویذ سے مطلق تعویذ مراد نہیں، بلکہ وہ تعویذ مراد ہیں جو جاہلیت کے زمانے میں کئے جاتے تھے اور جو شرکیہ الفاظ پر مشتمل ہوتے تھے، پوری حدیث پڑھنے سے یہ مطلب بالکل واضح ہوجاتا ہے، چنانچہ حدیث کا ترجمہ یہ ہے:

’’حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک گروہ (بیعت کے لئے) حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نو کو بیعت فرمالیا اور ایک کو نہیں فرمایا، عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ نے نو کو بیعت کرلیا اور ایک کو چھوڑ دیا؟ فرمایا: اس نے تعویذ لٹکا رکھا ہے! یہ سن کر اس شخص نے ہاتھ ڈالا اور تعویذ کو توڑ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بیعت فرمالیا اور فرمایا: ’’مَنْ عَلَّقَ تَمِیْمَۃً فَقَدْ أَشْرَك‘‘(۱) ترجمہ: ’’جس نے تعویذ باندھا اس نے شرک کا اِرتکاب کیا۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ یہاں ہر تعویذ مراد نہیں، بلکہ جاہلیت کے تعویذ مراد ہیں اور دورِ جاہلیت میں کاہن لوگ شیطان کی مدد کے الفاظ لکھا کرتے تھے۔

  1. (۱) عن عقبۃ بن عامر الجھنی أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أقبل الیہ رھط فبایع تسعۃ وأمسك عن واحد فقیل لہ: یا رسول اللہ! بایعت تسعۃ وترکت ھٰذا؟ قال: ان ھٰذا علیہ تمیمۃ! فأدخل یدہ فقطعھا فبایعہ، وقال: من علَّق تمیمۃ فقد أشرك۔ (مجمع الزوائد ج:۵ ص:۱۲۳، باب فیمن یعلق تمیمۃ أو نحوھا، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔