تعویذگنڈےاورجادو
تعویذگنڈےکیشرعیحیثیت
سوال:۔
ہمارے خاندان میں تعویذ گنڈے کی بہت شہرت ہے، اور اسی وجہ سے میرے ذہن میں یہ سوال آیا کہ کیا کسی کو تعویذ کرانے سے اس پر اثر ہوجاتا ہے؟
جواب:۔
تعویذ گنڈے کا اثر ہوتا ہے اور ضرور ہوتا ہے، مگر ان کی تأثیر بھی باذنِ اللہ ہے۔ کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے جو تعویذ گنڈے کئے جاتے ہیں ان کا حکم تو وہی ہے جو جادو کا ہے کہ ان کا کرنا اور کرانا حرام اور کبیرہ گناہ ہے، بلکہ اس سے کفر کا اندیشہ ہے۔ اور میں اُوپر عرض کرچکا ہوں کہ اس کا اثر ضرور ہوتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص کسی پر گندگی پھینک دے تو ایسا کرنا تو حرام اور گناہ ہے اور یہ نہایت کمینہ حرکت ہے، مگر جس پر گندگی پھینکی گئی ہے اس کے کپڑے اور بدن ضرور خراب ہوں گے اور اس کی بدبو بھی ضرور آئے گی۔ پس کسی چیز کا حرام اور گناہ ہونا دُوسری بات ہے اور اس گندگی کا اثر ہونا فطری چیز ہے۔ تعویذ اگر کسی جائز مقصد کے لئے کیا جائے تو جائز ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی گناہ اور شرک کی بات نہ لکھی ہو، پس تعویذ گنڈے کے جواز کی تین شرطیں ہیں:
اوّل:۔ کسی جائز مقصد کے لئے ہو، ناجائز مقاصد کے لئے نہ ہو۔
دوم:۔ اس کے الفاظ کفر و شرک پر مشتمل نہ ہوں، اور اگر وہ ایسے الفاظ پر مشتمل ہوں جن کا مفہوم معلوم نہیں تو وہ بھی ناجائز ہے۔
سوم:۔ ان کو مؤثر بالذات نہ سمجھا جائے۔(۱)
- (۱) عن عوف بن مالك الأشجعی قال: كنا نرقی فی الجاھلیۃ فقلنا: یا رسول اللہ! کیف تَریٰ فی ذالك؟ فقال: اعرضوا علیّ رقاكم، لَا بأس بالرقی ما لم یكن فیہ شرك۔ (مشكٰوۃ ص:۳۸۸، کتاب الطب)۔ وفی المرقاۃ: إن الرقی یکرہ منھا ما کان بغیر اللسان العرب وبغیر أسماء اللہ تعالٰی وصفاتہ وكلامہ فی کتبہ المنزلۃ ۔۔۔ لَا بأس بالرقی ما لم یكن فیہ شرك أی کفر۔ (مرقاۃ شرح مشكٰوۃ ج:۴ ص:۵۰۱، طبع بمبئی)۔ أیضًا: قال فی النھایۃ ۔۔۔ أن ما کان بغیر اللسان العربی وبغیر کلام اللہ تعالٰی وأسمائہ وصفاتہٖ فی کتبہ المنزلۃ أو ان یعتقد ان الرقیۃ نافعۃ قطعًا فلیتكل علیھا فمکروہ وما کان بخلاف ذٰلك فلا یکرہ ۔۔۔الخ۔ (ابوداوٗد، حاشیہ نمبر۳، کتاب الطب ج:۲ ص:۱۸۶)۔ وإنما تکرہ العوذۃ إذا کانت بغیر لسان العرب ولَا یدری ما وھو ولعلہ یدخلہ سحر أو کفر أو غیر ذٰلك وأما ما کان من القرآن أو شیء من الدعوات فلا بأس بہ۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۳۶۳)۔ أجمع العلماء علٰی جواز الرقٰی عند إجتماع ثلاثۃ شروط: أن یکون بكلام اللہ تعالٰی أو بأسمائہ وصفاتہ وباللسان العربی أو بما یعرف معناہ من غیرہ وأن یعتقد أن الرقیۃ لَا تؤثر بذاتھا بل بذات اللہ تعالٰی۔ (فتح الباری ج:۱۰ ص:۱۹۵ طبع دار الفکر، بیروت)۔

