تعویذگنڈےاورجادو
نظرلگنےکیحقیقت
سوال:۔
بڑے بوڑھوں سے اکثر سننے میں آتا ہے کہ فلاں شخص کو نظر لگ گئی اور اس طرح اس کی آمدنی کم ہوگئی یا کاروبار میں نقصان ہوگیا، یا ملازمت ختم ہوگئی وغیرہ۔ براہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ نظر لگنے کی حقیقت کیا ہے؟
جواب:۔
صحیح بخاری شریف (کتاب الطب، باب العین حق ج:۲ ص:۸۵۴) کی حدیث میں ہے کہ: ’’اَلْعَیْنُ حَقٌّ‘‘ یعنی نظر لگنا برحق ہے۔ حافظ ابنِ حجرؒ نے فتح الباری (ج:۱۰ ص:۲۰۴) میں اس کے ذیل میں مسند بزار سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’قضا و قدر کے بعد اکثر لوگ نظر لگنے سے مرتے ہیں(۱)۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ نظر لگنے سے بعض دفعہ آدمی بیمار بھی ہوجاتا ہے اور بعض صورتوں میں یہ بیماری موت کا پیش خیمہ بھی بن جاتی ہے۔ دُوسرے نقصانات کو اسی سے قیاس کیا جاسکتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی چیز کو دیکھے اور وہ اسے بہت ہی اچھی لگے تو اگر وہ ’’مَا شَآءَ اللہُ لَا قُوَّۃَ إِلّا بِاللہِ‘‘ کہہ دے تو اس کو نظر نہیں لگے گی۔(۲)
- (۱) وقد أخرج البزّار عن حدیث جابر بسند حسن عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: أکثر من یموت من اُمّتی بعد قضاء اللہ وقدرہ بالأنفس۔ (فتح الباری ج:۱۰ ص:۲۰۴، طبع دار نشر الکتب الْإسلامیۃ، لَاھور)۔
- (۲) یذکر عن أنس عنہ انہ قال: ما أنعم اللہ علٰی عبد نعمۃ فی أھل ولَا مال أو ولد فیقول: ما شاء اللہ لَا قوۃ إلّا باللہِ فیریٰ فیہ آفۃً دون الموت، وقد قال تعالٰی: ﵟ وَلَوۡلَآ إِذۡ دَخَلۡتَ جَنَّتَكَ قُلۡتَ مَا شَآءَ ٱللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِٱللَّهِۚ ﵞ الكهف ٣٩۔ (زادالمعاد ج:۲ ص:۴۵۶)۔ العین حق تصیب المال والآدمی والحیوان ویظھر أثرہ فی ذٰلك عرف بالآثار۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۳۶۴)۔

