جنت
شہیدکےبعدطبعیموتمرنےوالاجنتمیںپہلےکیسےگیا؟
سوال:۔
’’فضائلِ اعمال‘‘ میں ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ دو آدمی ایک وقت مسلمان ہوئے، ایک پہلے جنگ میں شہید ہوگیا، دُوسرا ایک سال بعد اپنی موت سے فوت ہوگیا۔ اب ایک آدمی خواب میں دیکھتا ہے کہ جنت کے دروازے پر دونوں کھڑے ہیں، نمازی کو بلایا گیا، وہ جنت کے اندر داخل ہوگیا، اور دُوسرا شہید تھوڑی دیر کے بعد داخل ہوا۔ اس نے کہا کہ: یہ کیا ہوا؟ شہید کو تو پہلے جنت میں جانا تھا، اور یہ پیچھے داخل ہوا! تو انہوں نے فرمایا کہ: یہ نمازیں اس کی ایک سال کی بڑھ گئیں، اس واسطے یہ پہلے جنت میں داخل ہوا۔ یہ حدیث قرآن شریف کے ساتھ مخالف ہوتی ہے کہ شہید جب ہوتا ہے، اسی وقت اس کی رُوح جنت میں سبز پرندوں کے اندر داخل ہوجاتی ہے، باقی لوگ قیامت میں حساب کے بعد جنت میں داخل ہوں گے، اور شہید پہلے جنت میں داخل ہوتا ہے۔ اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟ نماز اچھی، روزہ اچھا، مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا، جب تک سروَرِ کائنات کی عزّت پر نہ کٹ مروں۔ شہادت کا رُتبہ اور شہید کا مرتبہ زیادہ ہے یا صرف نماز پڑھتے رہیں اور روزے رکھتے رہیں، اور شہادت فی سبیل اللہ کی تمنا بھی نہ کریں؟ آپ ارشاد فرمائیں کہ حدیث شریف کی کتاب کو پڑھ سکتا ہوں یا نہیں؟
جواب:۔
حدیث، قرآن کے مخالف نہیں، لیکن تمہاری سمجھ ناقص ہے، اس سے توبہ کرو۔

