بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جنت

کیا‌آخری‌کلمہ‌’’لا‌اِلٰہ‌اِلَّا‌اﷲ‘‘‌والا‌جنت‌میں‌جائے‌گا

سوال:۔

احادیث میں حسنِ خاتمہ کے متعلق آتا ہے کہ ایک شخص کا پہلا اور آخری کلمہ موت کے وقت ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہُ‘‘ وہ ہزار سال زندہ رہے، اس سے بازپُرس نہیں ہوگی، وہ حالتِ اِیمان پر مرے گا۔ بالفرض ایک شخص پوری زندگی نافرمانی کرتا رہا اور موت کے وقت کلمہ پڑھ سکا تو اس کے تمام فسق و فجور اور فرائض کی کوتاہی معاف ہوگی یا اس سے بازپُرس ہوگی؟ علاوہ ازیں ایک شخص نے پوری زندگی اطاعت و فرمانبرداری میں گزاری، موت کے وقت کسی وجہ سے کلمہ نہ پڑھ سکا یا کسی حادثے کا شکار ہوکر مرا اور کلمہ نہ پڑھ سکا، تو کیا اس کا فیصلہ ماضی کے اعمال پر ہوگا؟ وہ حالتِ اسلام پر ہے؟

جواب:۔

حدیث شریف میں ہے کہ جس کا آخری کلام ’’لا اِلٰہ اِلَّا اللہ‘‘ ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔(۱) اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو نصیب فرمائے، لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی فرائض کا تارک نہ ہو اور کبیرہ گناہوں کا مرتکب نہ ہو۔(۲) اگر کوئی شخص کسی حادثے میں فوت ہوجائے اور وہ آخری وقت میں کلمہ نہ پڑھ سکے تو اس کا معاملہ بھی اللہ کے سپرد ہے،(۳) واللہ اعلم!

  1. (۱) عن معاذ بن جبل ۔۔۔ من کان آخر کلامہ لَا اِلٰہ اِلّا اللہ دخل الجنّۃ۔ (ابوداوٗد ج:۲ ص:۸۸، کتاب الجنائز)۔ انّ أبا ذر حدّثہ ۔۔۔ ما من عبد قال لَا اِلٰہ اِلّا اللہ ثم مات علٰی ذٰلك اِلّا دخل الجنّۃ۔ (بخاری ج:۲ ص:۸۶۷، باب الثیاب البیض)۔
  2. (۲) ﵟ ٱلَّذِينَ يَجۡتَنِبُونَ كَبَٰٓئِرَ ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡفَوَٰحِشَ ﵞ النجم ٣٢ ۔۔۔ الآیۃ۔‘‘۔ وأیضًا ﵟ إِن تَجۡتَنِبُواْ كَبَآئِرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنكُمۡ سَيِّـَٔاتِكُمۡ ﵞ النساء ٣١۔۔۔الآیۃ۔
  3. (۳) والمقصود أن یموت الرجل ولیس فی قلبہ إلّا اللہ عزّ وجلّ، لأن المدار علی القلب وعمل القلب ھو الذی نظر فیہ وتکون النجاۃ بہ۔ (التذکرۃ فی أحوال الموتٰی واُمور الآخرۃ ص:۳۵)۔