بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جنت

نیک‌عورت‌جنتی‌حوروں‌کی‌سردار‌ہوگی

سوال:۔

جناب! آج تک یہ سنتے آئے ہیں کہ جب کوئی نیک مرد انتقال کرتا ہے تو اسے ستر حوریں خدمت کے لئے دی جائیں گی، لیکن جب کوئی عورت انتقال کرتی ہے تو اس کو کیا دیا جائے گا؟

جواب:۔

وہ اپنے جنتی شوہر کے ساتھ رہے گی اور جنت کی حوروں کی سردار ہوگی۔(۱) جنت میں سب کی عمر اور قد یکساں ہوگا اور بدن نقائص سے پاک، شناخت حلیہ سے ہوگی۔(۲) جن خواتین کے شوہر بھی جنتی ہوں گے وہ تو اپنے شوہروں کے ساتھ ہوں گی، اور حورِ عین کی ملکہ ہوں گی۔ اور جن خواتین کا یہاں عقد نہیں ہوا ان کا جنت میں کسی سے عقد کردیا جائے گا۔ بہرحال دُنیا کی جنتی عورتوں کو جنت کی حوروں پر فوقیت ہوگی۔(۳)

  1. (۱) ان نساء الدنیا من دخل منھن الجنّۃ فضلن علی العین بما عملن فی الدنیا، روی مرفوعًا: ان الآدمیات أفضل من الحور العین بسبعین ألف ضعف۔ (التذکرۃ فی أحوال الموتٰی واُمور الآخرۃ ص:۵۵۶ طبع بیروت)۔
  2. (۲) عن معاذ بن جبل ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: یدخل أھل الجنّۃ الجنّۃ جردًا مردًا مکحّلین ابناء ثلٰثین أو ثلٰث وثلٰثین سنۃ۔ رواہ الترمذی۔ (مشکوٰۃ ص:۴۹۸) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من یدخل الجنّۃ ینعم ولَا ییأس ولَا یبلٰی ثیابہ ولَا یفنی شبابہ۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۴۹۶)۔ وعن أبی سعید الخدری عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من مات من أھل الجنّۃ من صغیر وكبیر یرون بنی ثلاثین فی الجنۃ لَا یزیدون علیھا ولَا ینقصون وكذٰلك أھل النار۔ (التذکرۃ فی أحوال الموتٰی واُمور الآخرۃ ص:۵۵۳، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔
  3. (۳) عن أمّ سلمۃ قالت ۔۔۔ قلت: یا رسول اللہ! نساء الدنیا أفضل أم حور العین؟ قال: بل نساء الدنیا أفضل من الحور العین۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۶ ص:۹۷، سورۃ الواقعۃ، الآیۃ:۳۵، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔