جنت
اتنابڑیجنتکیحکمت
سوال:۔
حدیث شریف میں ہے کہ ’’سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ للّٰہِ‘‘ اور ’’اَللہُ اَکْبَرُ‘‘ کہنے والے کے لئے جنت میں ہر کلمے کے عوض ایک پیڑ لگایا جاتا ہے، اس طرح بہت سے اعمال پر ایک محل عطا ہونے کی بشارت آئی ہے، انسان اپنی زندگی میں یہ کلمہ طیبہ لاکھوں کی تعداد میں کرتا ہے، تو ان لاکھوں محلات اور باغات کی اس کو کیا ضرورت ہوگی؟ اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ اگر آدمی فلاں عمل اپنی زندگی کے آخر تک کرتا رہے اور اس پر مرے تو اس کے لئے ایسا ایسا محل تیار کیا جائے گا؟
جواب:۔
دوام کی قید نہیں بلکہ مطلق عمل پر یہ اَجر ہے،(۱) رہا یہ کہ اتنے لاکھوں محلات کی کیا ضرورت؟ یہ ’’قیاس غائب علی الشاہد‘‘ ہے۔ یہ حدیث تو علم میں ہوگی کہ ادنیٰ جنتی کو آپ کی پوری دُنیا سے دس گنا زیادہ جنت عطا کی جائے گی۔(۲) یہاں بھی آپ کا یہ سوال متوجہ ہوگا کہ اتنی بڑی جنت کو کیا کرے گا؟ بہرحال آخرت کے اُمور ہماری عقل و قیاس کے پیمانوں میں نہیں سماسکتے، ’’اَعْدَدْتُ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَا لَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ‘‘ حدیثِ قدسی ہے۔(۳) ایک مرتبہ تبلیغی سفر میں ایک بزرگ فرمانے لگے کہ مولویو! یہ بتاؤ کہ اتنی بڑی جنت کو کوئی کیا کرے گا؟ پھر خود ہی فرمادیا کہ تمام اہلِ جنت ایک جنتی کی برادری ہے، کبھی آدمی کا جی چاہے کہ پوری برادری کی دعوت کرے، کیونکہ سب معزّز مہمان ہیں، اس لئے ہر فرد کے لئے ٹھہرنے کو الگ جگہ ہونی چاہئے، لہٰذا ایک جنتی کے پاس اتنی بڑی جنت ہونی چاہئے کہ یہ بیک وقت تمام اہلِ جنت کو مع ان کے حشم و خدم کے ٹھہراسکے۔
- (۱) عن جابر قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من قال سبحان اللہ العظیم وبحمدہ غرست لہ نخلۃ فی الجنّۃ۔ رواہ الترمذی۔ (مشکوٰۃ ص:۲۰۱، باب ثواب التسبیح، الفصل الثانی) وفی المرقاۃ شرح المشكٰوۃ: (غرست) أی بكل مرۃ لہ نخلۃ عظیمۃ فی الجنّۃ أی المُعِدّۃ لقائلھا خصت لکثرۃ منفعتھا وطیب ثمرتھا۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۳ ص:۵۱)۔
- (۲) عن عبداللہ بن مسعود قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: انی لأعلم آخر أھل النار خروجًا منھا وآخر أھل الجنّۃ دُخولًا الجنۃ ۔۔۔ فیقول اللہ تعالٰی لہ: اذھب فادخل الجنّۃ، فان لك مثل الدنیا وعشرۃ أمثالھا أو ان لك عشرۃ أمثال الدنیا ۔۔۔الخ۔ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۱۰۵، باب اثبات الشفاعۃ واخراج الموحدین من النّار)۔
- (۳) مشکوٰۃ ص:۴۹۵، باب صفۃ الجنۃ وأھلھا، الفصل الأوّل۔

