بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

آخرت‌کی‌جزا‌و‌سزا

حدیث‌’’جہنم‌سے‌ہر‌اُس‌شخص‌کو‌نکال‌لو‌جو‌کبھی‌مجھ‌سے‌ڈَرا‌ہو‘‘‌کی‌وضاحت

سوال:۔

مولانا زکریا رحمۃ اللہ علیہ نے ’’فضائلِ ذکر‘‘ میں فصلِ سوم میں کلمۂ طیبہ کے باب میں حدیث نمبر۲۰ نقل کی ہے، وہ یوں ہے: ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ (قیامت کے دن) حق تعالیٰ شانہ‘ ارشاد فرمائیں گے کہ: جہنم سے ہر اُس شخص کو نکال لو جس نے لا اِلٰہ اِلَّا اﷲ کہا ہو، اور اس کے دِل میں ذرّہ برابر بھی اِیمان ہو، اور ہر اُس شخص کو نکال لو جس نے لا اِلٰہ اِلَّا اﷲ کہا ہو یا مجھے (کسی طرح بھی) یاد کیا ہو، یا کسی موقع پر مجھ سے ڈَرا ہو۔‘‘

تو اس حدیث کو جس کو علماء نے صحیح بتلایا ہے، کے حوالے سے آپ ارشاد فرمائیں کہ کیا جہنم سے کافر بھی نکال لئے جائیں گے؟ کیونکہ زندگی میں کبھی نہ کبھی تو ہر کافر اللہ کا ذکر کرتا ہی ہے، اور کبھی نہ کبھی تو ہر شخص اللہ سے ڈَرتا ہی ہے، اور اہلِ کتاب تو اللہ سے ڈَرتے ہی ہیں، اس میں یہ اِشکال پیدا ہوتا ہے کہ کافر کے لئے بعض مقامات پر جہنم میں ہمیشہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

جواب:۔

جو شخص مسلمان ہو، اللہ اور اللہ کے رسول پر اِیمان رکھتا ہو، اس کے ساتھ کلمہ پڑھے، اس کا حکم اس حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے۔(۱)

  1. (۱) عن عبادۃ بن الصامت قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: من شھد أن لَا اِلٰہ اِلّا اللہ وأن محمدًا رسول اللہ حرّم اللہ علیہ النَّار۔ رواہ مسلم۔ وعن عثمان رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من مات وھو یعلم أنہ لَا اِلٰہ اِلّا اللہ دخل الجنّۃ۔ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۱۵، کتاب الْإیمان، الفصل الأوّل)۔