آخرتکیجزاوسزا
کیاقطعیگناہکوگناہنہسمجھنےوالاہمیشہجہنممیںرہےگا؟
سوال:۔
جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ: ’’رِشوت لینے والا اور رِشوت دینے والا دونوں دوزخی ہیں‘‘ تو کیا ایسے دوزخی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دوزخ کی آگ میں رہیں گے؟ اسی طرح دُوسرے گناہ گار بھی جو اس دُنیا میں مختلف گناہوں میں ملوّث ہیں، دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے یا گناہوں کی سزا مل جانے کے بعد جنت میں داخل کردئیے جائیں گے؟ یا دوزخی کو کبھی جنت نصیب نہ ہوگی؟
جواب:۔
دائمی جہنم تو کفر کی سزا ہے، کفر و شرک کے علاوہ جتنے گناہ ہیں اگر آدمی توبہ کئے بغیر مرجائے تو ان کی مقرّرہ سزا ملے گی اور اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو اپنی رحمت سے بغیر سزا کے بھی معاف فرماسکتے ہیں، بشرطیکہ خاتمہ ایمان پر ہوا ہو۔(۱) لیکن یہ یاد رہنا چاہئے کہ گناہ کو گناہ نہ سمجھنے سے آدمی اِیمان سے خارج ہوجاتا ہے(۲) اور یہ بہت ہی باریک اور سنگین بات ہے۔ بہت سے سود کھانے والے، رِشوت کھانے والے اور داڑھی منڈوانے یا کترانے والے اپنے آپ کو گناہ گار ہی نہیں سمجھتے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جن گناہوں کو آدمی گناہ سمجھ کر کرتا ہو اور اپنے آپ کو گناہ گار اور مجرم تصوّر کرتا ہو، ان کی معافی تو ہوجائے گی، خواہ سزا کے بعد ہو یا سزا کے بغیر، لیکن جن گناہوں کو گناہ ہی نہیں سمجھا، ان کا معاملہ زیادہ خطرناک ہے۔
- (۱) صفحہ ۱۱۳۷ کا حاشیہ نمبر۱دیکھیں ۔
- (۲) ان استحلال المعصیۃ صغیرۃ کانت أو كبیرۃ، کفر۔ (شرح فقہ اكبر ص:۱۸۶، طبع دھلی)۔

