آخرتکیجزاوسزا
گناہگارمسلمانکیبخشش
سوال:۔
مولانا صاحب! کیا گناہ گار مسلمان جس نے اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا ہو، لیکن ساری زندگی گناہوں میں گزار دی، وہ آخرت میں اپنے گناہوں کی سزا پانے کے بعد جنت میں داخل ہوسکے گا یا نہیں؟
جواب:۔
جس شخص کا خاتمہ اِیمان پر ہوا، اِن شاء اللہ! اس کی کسی نہ کسی وقت ضرور بخشش ہوگی،(۱) لیکن مرنے سے پہلے آدمی کو سچی توبہ کرلینی چاہئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا تحمل نہیں ہوسکتا۔ اور بعض گناہ ایسے ہیں جن کی نحوست کی وجہ سے اِیمان سلب ہوجاتا ہے(۲) ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔، اس لئے خاتمہ بالخیر کا بہت اہتمام کرنا چاہئے، اور اس کے لئے دُعائیں بھی کرتے رہنا چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو حسنِ خاتمہ کی دولت نصیب فرمائیں اور سوئِ خاتمہ سے اپنی پناہ میں رکھیں۔
- (۱) ﵟ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ ﵞ(النساء ١١٦)۔۔۔ الخ‘‘۔ أیضًا وأھل الكبائر من المؤمنین لَا یخلدون فی النار وان ماتوا من غیر توبۃ لقولہ تعالٰی: ﵟ فَمَن يَعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرٗا يَرَهُۥ ٧ ﵞ، ونفس الْإیمان عمل خیر لَا یمکن ان یری جزاءہ قبل دخول النار ثم یدخل النار لأنہ باطل بالْإجماع فتعین الخروج من النار۔ (شرح عقائد ص:۱۱۶)۔
- (۲) أو یکون ممن کان مستقیمًا ثم یتغیّر عن حالہ ویخرج عن سننہ ویأخذ فی طریقہ فیکون ذٰلك سببًا لسوء خاتمتہ وشؤم عاقبتہ، کإبلیس الذی عبَد اللہ فیما یروی ثمانین ألف سنۃ، وبلعام بن باعوراء الذی آتاہ اللہ آیاتہ فانسلخ منھا الی الأرض واتبع ھواہ، وبرمیصا العابد الذی قال اللہ فی حقہ كمثل الشیطان اذ قال للإنسان اکفر۔ (التذکرۃ للقرطبی ص:۴۲)۔

