بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

آخرت‌کی‌جزا‌و‌سزا

کیا‌غیرمسلم‌کو‌نیک‌کام‌کرنے‌کا‌اَجر‌ملے‌گا؟‌اِشکال‌کا‌جواب

سوال:۔

’’س: اگر کوئی غیرمسلم نیکی کا کوئی کام کرے مثلاً کہیں کنواں کھدوادے یا مخلوقِ خدا سے رحم و شفقت کا برتاؤ کرے، جیسا کہ کچھ عرصہ قبل بھارتی کرکٹر بشن سنگھ بیدی نے ایک مسلمان بچے کے لئے اپنے خون کا عطیہ دیا تھا، تو کیا غیرمسلم کو نیک کام کرنے پر اَجر ملے گا؟ ج: نیکی کی قبولیت کے لئے اِیمان شرط ہے، اور اِیمان کے بغیر نیکی ایسی ہے جیسے رُوح کے بغیر بدن۔ اس لئے اس کو آخرت میں اَجر نہیں ملے گا، البتہ دُنیا میں ایسے اچھے کاموں کا بدلہ چکادیا جاتا ہے۔‘‘ مندرجہ بالا اخباری کٹنگ ارسالِ خدمت ہے، اور سورۂ بقرہ کی آیت نمبر:۶۲ کا ترجمہ بھی: ﵟإِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ... وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَﵞترجمہ: ’’یقین جانو کہ نبی عربی کو ماننے والے ہوں یا یہودی، عیسائی ہوں یا صابی جو بھی اللہ اور روزِ آخرت پر اِیمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا، اس کا اَجر اس کے رَبّ کے پاس ہے، اور اس کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔‘‘

میری ناقص رائے کے مطابق مندرجہ بالا سوال کا جواب اس آیت کے مفہوم کے مطابق غلط ہے، کیونکہ اس آیت میں واضح طور پر غیرمسلموں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اَجر کی نوید دی گئی ہے، اُمید ہے کہ خط اخبار میں شائع کریں گے اور اپنی رائے سے بھی مطلع کریں گے۔

جواب:۔

آپ نے آیت کا مطلب صحیح نہیں سمجھا، یہ بات تو خود اسی آیت میں بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر اِیمان لانا شرطِ نجات ہے، اور آپ جانتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر اِیمان رکھتا ہو وہ اللہ تعالیٰ کو سچا بھی سمجھے گا، کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی بات کو ۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔ غلط سمجھے، اس کا اللہ تعالیٰ پر کیا اِیمان ہوا؟ اور یہ بھی آپ کو معلوم ہے کہ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’محمد رسول اللہ‘‘ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و نبوّت پر اِیمان لانا ضروری ہی ہوا کہ یہ فرمودۂ خدا ہے، اور جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان نہیں رکھتا، وہ خدا کی بات کو جھٹلاتا ہے، ایسے شخص کا خدا پر بھی اِیمان نہیں ہوسکتا۔(۱) جو آیتِ کریمہ آپ نے نقل کی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ خواہ کسی مذہب و ملت کا آدمی ہو، اگر وہ صحیح اِیمان لے آئے تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہوگا۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان لائے بغیر اِیمان صحیح نہیں ہوسکتا۔ آپ اس آیت کی تشریح و تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ میں دیکھ لیں۔

  1. (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: أُمرتُ أن أُقاتل الناس حتّٰی یشھدوا أن لَا إلٰہ إلّا اللہ ویؤمنوا بی وبما جئت بہ، فان فعلوا ذٰلك عصموا منی دمائھم ۔۔۔ الخ۔ (مسلم ج:۱ ص:۳۷، مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۲)۔