بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

آخرت‌کی‌جزا‌و‌سزا

غیرمسلموں‌کے‌اچھے‌اعمال‌کا‌بدلہ

سوال:۔

اگر کوئی غیرمسلم نیکی کا کوئی کام کرے مثلاً کہیں کنواں کھدوادے یا مخلوقِ خدا سے رحم و شفقت کا برتاؤ کرے، جیسا کہ کچھ عرصہ قبل بھارتی کرکٹر بشن سنگھ بیدی نے ایک مسلمان بچے کے لئے اپنے خون کا عطیہ دیا تھا، تو کیا غیرمسلم کو نیک کام کرنے پر اَجر ملے گا؟

سوال:۔

دُنیاوی تعلیم حاصل کرنے والے کچھ حضرات فرماتے ہیں کہ: غیرمسلم جو اچھے کام کرتے ہیں ان کو قیامت میں ان کا صلہ ملے گا، اور وہ جنت میں جائیں گے۔ میں نے ان سے کہا کہ غیرمسلم چاہے اہلِ کتاب کیوں نہ ہوں ان کو نیک کاموں کا صلہ یہاں مل سکتا ہے، قیامت میں نہیں ملے گا، نہ وہ جنت میں جائیں گے جب تک کلمہ پڑھ کر مسلمان نہیں ہوتے۔

سوال:۔

تمام لوگ حضرت آدمؑ کی اولاد ہیں اور اُمتِ محمدی سے ہیں، عیسائی یا یہودی لوگ جن پر اللہ کریم نے توراۃ، اِنجیل نازل فرمائی ہیں، اگر وہ اپنے مذہب پر عمل کرتے ہیں، اس کے علاوہ سخاوت، غریبوں کی مدد کرنا، ہسپتال بنانا اور اس کے علاوہ کئی اچھے کام کرتے ہیں جن کی اسلام نے بھی اجازت دی ہے، تو کیا وہ لوگ جنت میں نہیں جاسکتے؟ اللہ کریم غفور رحیم ہے۔

جواب:۔

نیکی کی قبولیت کے لئے اِیمان شرط ہے،(۱) اور اِیمان کے بغیر نیکی ایسی ہے جیسے رُوح کے بغیر بدن۔ اس لئے اس کو آخرت میں اَجر نہیں ملے گا، البتہ دُنیا میں ایسے اچھے کاموں کا بدلہ چکادیا جاتا ہے۔(۲)

جواب:۔

آپ کی بات صحیح ہے! قرآن مجید میں اور اَحادیث شریفہ میں بے شمار جگہ فرمایا گیا ہے کہ جنت اہلِ ایمان کے لئے ہے، اور کفار کے لئے جنت حرام ہے،(۳) اور یہ بھی بہت سی جگہ فرمایا گیا ہے کہ نیک اعمال کے قبول ہونے کے لئے اِیمان شرط ہے، بغیر اِیمان کے کوئی عمل مقبول نہیں،(۴) نہ اس پر قیامت کے دن کوئی اَجر ملے گا۔(۵)

جواب:۔

قرآنِ کریم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کفر و شرک کے گناہ کو معاف نہیں کرے گا، اس سے کم درجے کے جو گناہ ہیں وہ جس کو چاہے معاف کردے گا۔(۶) اور حدیث شریف میں ہے کہ اس اُمت میں جو شخص میرے بارے میں سنے اور مجھ پر ایمان نہ لائے خواہ وہ یہودی ہو یا نصرانی، اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں داخل کرے گا۔(۷) خلاصہ یہ کہ نجات اور مغفرت کے لئے اِیمان شرط ہے، بغیر اِیمان کے بخشش نہیں ہوگی۔

  1. (۱) ﵟ أَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ ٱلۡحَآجِّ وَعِمَارَةَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ كَمَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَجَٰهَدَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۚ لَا يَسۡتَوُۥنَ عِندَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٩ ﵞالتوبة ١٩،ﵟ وَٱلۡعَصۡرِ ١ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَفِي خُسۡرٍ ٢ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ ﵞالعصر ١-٣۔
  2. (۲) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’۔۔۔ وأمّا الکافر فیطعم بحسنات ما عمل بھا ﷲ فی الدنیا حتّٰی اذا أفضٰی الی الآخرۃ لم یكن لہ حسنۃ یجزٰی بھا۔‘‘ رواہ مسلم۔ (مشکوٰۃ ص:۴۳۹، کتاب الرقاق)۔
  3. (۳) ﵟ إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ كَانَتۡ لَهُمۡ جَنَّٰتُ ٱلۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًا ١٠٧ ﵞ الكهف ١٠٧ ۔۔۔ الخ۔‘‘ ۔ ﵟ إِنَّهُۥ مَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ ٱلۡجَنَّةَ وَمَأۡوَىٰهُ ٱلنَّارُۖ ﵞ المائدة ٧٢۔ وعن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: والذی نفس محمد بیدہ! لَا سمع بی أحد من ھٰذہ الاُمّۃ یھودی ولَا نصرانی ثم یموت ولم یؤمن بالذی أُرسلت بہ إلّا کان من أصحاب النار۔ رواہ مسلم۔ (مشكٰوۃ ص:۱۲، کتاب الْإیمان، الفصل الأوّل)۔
  4. (۴) ﵟ وَٱلۡعَصۡرِ ١ إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَفِي خُسۡرٍ ٢ إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ ﵞالعصر ١-٣۔ﵟ وَمَن يَعۡمَلۡ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِن ذَكَرٍ أَوۡ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤۡمِنٞ فَأُوْلَٰٓئِكَ يَدۡخُلُونَ ٱلۡجَنَّةَ ﵞ النساء ١٢٤۔۔۔الخ۔
  5. (۵) ﵟ أَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ ٱلۡحَآجِّ وَعِمَارَةَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ كَمَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَجَٰهَدَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۚ لَا يَسۡتَوُۥنَ عِندَ ٱللَّهِۗ ﵞ التوبة ١٩۔ عن أنس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ وأما الکافر فیطعم بحسنات ما عمل بھا ﷲ فی الدنیا حتّٰی إذا افضٰی إلی الآخرۃ لم یكن لہ حسنۃ یجزیٰ بھا۔ (مشكٰوۃ ص:۴۳۹، کتاب الرقاق)۔
  6. (۶) ﵟ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ ﵞ(النساء ١١٦)۔
  7. (۷) عن أبی ھریرۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال: والذی نفس محمد بیدہ! لَا یسمع بی أحد من ھٰذہ الاُمّۃ یھودیٌّ ولَا نصرانیٌّ ثم یموت ولم یؤمن بالذی اُرسلتُ بہ إلّا کان من أصحاب النار۔ (صحیح مسلم، باب وجوب الْإیمان برسالۃ نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ج:۱ ص:۸۶)۔