آخرتکیجزاوسزا
کیاتماممذاہبکےلوگبخشےجائیںگے؟
سوال:۔
ایک شخص نے یہ کہا کہ: کوئی ضروری نہیں کہ قرآن و حدیث کے پابند اشخاص ہی بخشے جائیں گے، بلکہ تمام مذاہب کے لوگوں کی بخشش ہوگی۔
جواب:۔
یہ عقیدہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد کے تمام مذاہب کے لوگوں کی بخشش ہوگی، خالص کفر ہے۔ کیونکہ دیگر مذاہب کے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں، خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں، ان کے بارے میں قرآن مجید میں جابجا تصریحات موجود ہیں کہ ان کی بخشش نہیں ہوگی۔(۱) پس جو شخص خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہو، وہ یہ عقیدہ نہیں رکھ سکتا کہ تمام مذاہب کے لوگ بخشے جائیں گے۔(۲)
- (۱) ﵟ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ ﵞ(النساء ١١٦) ۔۔۔ الخ۔
- (۲) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: أمرت أن أقاتل الناس حتّٰی یشھدوا أن لّا إلٰہ إلّا اللہ ویؤمنوا بی وبما جئت بہ ۔۔۔ الخ۔ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۳۷، مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۲)۔ وعن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: والذی نفس محمد بیدہ! لَا سمع بی أحد من ھٰذہ الاُمّۃ یھودی ولَا نصرانی ثم یموت ولم یؤمن بالذی أُرسلت بہ إلّا کان من أصحاب النار۔ رواہ مسلم۔ (مشكٰوۃ ص:۱۲، کتاب الْإیمان)۔

