آخرتکیجزاوسزا
جرمکیدُنیاویسزااورآخرتکیسزا
سوال:۔
اگر ایک شخص نے قتل کیا ہو اور اس کو دُنیا میں پھانسی یا عمر قید کی سزا مل گئی تو کیا قیامت کے دن بھی اس کو سزا ملے گی؟
جواب:۔
آخرت کے عذاب کی معافی توبہ سے ہوتی ہے، پس اگر اس کو اپنے جرم پر پشیمانی لاحق ہوئی اور اس نے توبہ کرلی اور خدا تعالیٰ سے معافی مانگی تو آخرت کی سزا نہیں ملے گی،(۱) ورنہ مل سکتی ہے۔ چونکہ ایسا مجرم جسے دُنیا میں سزا ملی ہو اکثر اپنے کئے پر پشیمان ہوتا ہے اور وہ اس سے توبہ کرتا ہے، اس لئے حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ: جس شخص کو دُنیا میں سزا مل گئی وہ اس کے لئے آخرت کے عذاب سے کفارہ ہے۔(۲) اور جس کو دُنیا میں سزا نہیں ملی، اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، اس کے کرم سے توقع ہے کہ معاف کردے۔(۳)
- (۱) ولیس شیء یکون سببًا لغفران جمیع الذنوب اِلّا التَّوبۃَ۔ (شرح عقیدۃ الطحاویہ ص:۳۶۷)۔
- (۲) الرابع: المصائب الدنیویۃ قال صلی اللہ علیہ وسلم: ’’ما یصیب المؤمن من وصب ولَا نصب ولَا غم ولَا ھم ۔۔۔ اِلّا کفّر بھا من خطایاہ‘‘۔ (شرح العقیدۃ الطحاویہ ص:۳۶۹)۔
- (۳) السبب الحادی عشر: عفو أرحم الراحمین من غیر شفاعۃ۔ (شرح عقیدۃ الطحاویہ ص:۳۷۰)۔ ویغفر ما دون ذٰلك لمن یشاء من الصغائر والكبائر مع التوبۃ أو بدونھا۔ (شرح عقائد ص:۱۱۲، طبع مکتبہ خیر کثیر، کراچی)۔

