بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

آخرت‌کی‌جزا‌و‌سزا

کیا‌بُرائی‌کے‌عزم‌پر‌بھی‌گناہ‌ہوتا‌ہے؟

سوال:۔

قرآن کی ایک آیت کا مفہوم ہے کہ جو تم دِل میں خیال کرتے ہو تو ہمارے فرشتے اس اچھے یا بُرے خیال کو اپنی کتاب میں لکھ لیتے ہیں۔ اس طرح اگر کوئی بشر اپنے دِل میں بُرائی یا اچھائی کا خیال کرے اور عملاً نہ کرے تو کیا اس بُرائی کے خیال پر اتنا ہی گناہ ہے جتنا کہ عملاً کرنے پر؟ اور اسی طرح اچھائی کے خیال پر اتنا ہی ثواب ہے جتنا عملاً کرنے پر؟ تفصیل سے سمجھادیں۔

جواب:۔

بُرائی کا عزم کرلے مگر اس بُرے کام کو کرے نہیں تو اللہ تعالیٰ اس ارادہ کرنے کے گناہ کو معاف فرمادیتے ہیں، اور اگر بُرا فعل کرلیا تو فعل کا گناہ الگ ہوگا اور اس ارادہ کرنے کا الگ۔ نیکی کے کام کا ارادہ کرنے پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے، پھر اگر اس نیک کام کو کربھی لے تو دس گنا (سے سات سو گنا تک) لکھا جاتا ہے، اور اگر کسی وجہ سے اس کام کو نہ کرپائے تب بھی نیکی کے ارادے کا ثواب اس کو نقد حاصل ہے۔(۱)

  1. (۱) عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اللہ کتب الحسنات والسیئات فمن ھمّ بحسنۃ فلم یعملھا کتبھا اللہ لہ عندہ حسنۃً کاملۃً، فان ھم بھا فعملھا کتبھا اللہ لہ عندہ عشر حسنات الٰی سبعمائۃ ضعف الٰی أضعاف کثیرۃ، ومن ھمّ بسیئۃ فلم یعملھا کتبھا اللہ لہ عندہ حسنۃً کاملۃً فان ھو ھمّ بھا فعملھا کتبھا اللہ لہ سیئۃ واحدۃ۔ متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۰۷، طبع قدیمی کراچی)۔