بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

آخرت‌کی‌جزا‌و‌سزا

کیا‌دُنیا‌میں‌جرم‌کی‌سزا‌سے‌آخرت‌کی‌سزا‌معاف‌ہوجائے‌گی؟

سوال:۔

اگر کوئی ملزم یا مجرم اپنے جرم کا اِقرار کرلیتا ہے اور اس کے نتیجے میں اسے اس کے جرم کی سزا ملتی ہے تو کیا اس صورت میں مذکورہ ملزم یا مجرم کے اس گناہ کا کفارا ادا ہوجاتا ہے کہ جس کے اقرار کے نتیجے میں اسے سزا دی گئی؟ نیز کیا روزِ محشر ایسا فرد اپنے اس جرم کی سزا سے بَری الذمہ قرار پائے گا؟

جواب:۔

اگر توبہ کرلے تو آخرت کی سزا معاف ہوجائے گی، ورنہ نہیں۔(۱)

  1. (۱) ﵟ قُلۡ يَٰعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ أَسۡرَفُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُواْ مِن رَّحۡمَةِ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يَغۡفِرُ ٱلذُّنُوبَ جَمِيعًاۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٥٣ ﵞ الزمر ٥٣، أیضًا: ولیس شیء یکون سببًا لغفران جمیع الذنوب الّا التوبۃ۔ (شرح عقیدۃ الطحاویۃ ص:۳۶۷)۔ إن الحد لَا یکون طھرۃ من الذنب ولَا یعمل فی سقوط الْإثم بل لَا بد من التوبۃ فإن تاب کان الحد طھرۃ لہ وسقطت عنہ العقوبۃ الاُخرویۃ بالْإجماع وإلّا فلا۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۵۴۴، باب الجنایات)۔ ولیس مطھرًا عندنا بل المطھر التوبۃ۔ قولہ بل المطھر التوبۃ فإذا حد ولم تیب یبقی علیہ إثم المعصیۃ ۔۔۔ نعم یبقی علیھم حق العبد من القصاص إن قتلوا والضمان إن أخذوا المال ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار ج:۴ ص:۴، کتاب الحدود)۔