بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

آخرت‌کی‌جزا‌و‌سزا

آنحضرت‌صلی‌اللہ‌علیہ‌وسلم‌جزا‌و‌سزا‌میں‌شریک‌نہیں‌بلکہ‌اطلاع‌دینے‌والے‌ہیں

سوال:۔

عزّت و ذِلت اور جزا و سزا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، ساتھ ہی اپنے کلام پاک میں سورۂ اَعراف کے رُکوع:۲۳، سورۂ اَحزاب رُکوع:۶ اور سورۂ سبا رُکوع:۳ میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشخبری دینے والا قرار دیا، اس لفظ خوشخبری دینے والے کا کیا مفہوم سمجھا جائے؟ کیا اس میں علمِ غیب پنہاں ہے؟ جہاں اللہ تعالیٰ جزا و سزا کا خود ہی مالک ہے، اس میں رسالت مآب بھی شریک ہیں، جبکہ آپ خوشخبری دینے والے ہیں۔

جواب:۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نیک اعمال پر خوشخبری دینے والے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے لئے نیک جزا کا وعدہ فرمایا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جزا و سزا میں شریک نہیں، بلکہ منجانب اللہ جزا و سزا کی اطلاع دینے پر مامور ہیں۔(۱)

  1. (۱) ﵟ إِنۡ أَنتَ إِلَّا نَذِيرٌ ٢٣ إِنَّآ أَرۡسَلۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ بَشِيرٗا وَنَذِيرٗاۚ وَإِن مِّنۡ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٞ ٢٤ ﵞ فاطر ٢٣ و ٢٤۔