بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

آخرت‌کی‌جزا‌و‌سزا

مرنے‌کے‌بعد‌اور‌قیامت‌کے‌روز‌اعمال‌کا‌وزن

سوال:۔

جناب مفتی صاحب! کیا یہ صحیح ہے کہ روزِ محشر ہمارے گناہ صغیرہ اور کبیرہ کا وزن ہمارے ثواب صغیرہ و کبیرہ سے ہوگا اور جس کا پلہ زیادہ یا کم ہوگا، اسی کے مطابق جزا و سزا کے مستحق ہوں گے۔

جواب:۔

قرآنِ کریم کی آیات اور صحیح احادیث میں اعمال کا موزون ہونا مذکور ہے۔ اس میزان میں ایمان و کفر کا وزن کیا جائے گا،(۱) اور پھر خاص مؤمنین کے لئے ایک پلے میں ان کے حسنات اور دُوسرے پلے میں ان کے سیئات رکھ کر ان اعمال کو وزن ہوگا، جیسا کہ درمنثور میں ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے اور ابنِ کثیر میں ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر حسنات غالب ہوئے تو جنت اور سیئات غالب ہوئے تو دوزخ، اور اگر دونوں برابر ہوئے تو اَعراف اس کے لئے تجویز ہوگی،(۲) پھر خواہ شفاعت سے سزا کے بغیر یا سزا کے بعد مغفرت ہوجائے گی۔

نوٹ:۔ جنت اور جہنم کے درمیان حائل ہونے والے حصار کے بالائی حصے کا نام ’’اَعراف‘‘ ہے،(۳) اس مقام پر کچھ لوگ ہوں گے جو جنت و دوزخ دونوں طرف کے حالات دیکھ رہے ہوں گے، وہ جنتیوں کے عیش و آرام کی بہ نسبت جہنم میں، اور جہنمیوں کی بہ نسبت جنت میں ہوں گے، اس مقام پر کن لوگوں کو رکھا جائے گا؟ اس میں متعدّد اَقوال ہیں، مگر صحیح اور راجح قول یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے حسنات و سیئات (نیکی اور بدی) کے دونوں پلڑے برابر ہوں گے۔(۴)

  1. (۱) وقولہ: والمیزان، أی ونؤمن بالمیزان، قال تعالٰی: ﵟ وَنَضَعُ ٱلۡمَوَٰزِينَ ٱلۡقِسۡطَ لِيَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ فَلَا تُظۡلَمُ نَفۡسٞ شَيۡـٔٗاۖ وَإِن كَانَ مِثۡقَالَ حَبَّةٖ مِّنۡ خَرۡدَلٍ أَتَيۡنَا بِهَاۗ وَكَفَىٰ بِنَا حَٰسِبِينَ ٤٧ ﵞ الأنبياء ٤٧۔ وقال تعالٰی: ﵟ فَمَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ١٠٢ وَمَنۡ خَفَّتۡ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فِي جَهَنَّمَ خَٰلِدُونَ ١٠٣ ﵞ المؤمنون ١٠٢ و ١٠٣۔ قال القرطبی: قال العلماء: إذا انقضی الحساب کان بعدہ وزن الأعمال لأن الوزن للجزاء، فینبغی أن یکون بعد المحاسبۃ، فإن المحاسبۃ لتقریر الأعمال والوزن لِاظھار مقادیرھا لیکون الجزاء بحسبھا، قال: وقولہ تعالٰی: ﵟ وَنَضَعُ ٱلۡمَوَٰزِينَ ٱلۡقِسۡطَ لِيَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ ﵞ الأنبياء ٤٧، یحتمل أن یکون ثم موازین متعددۃ توزن فیھا الأعمال، ویحتمل أن یکون المراد الموزونات، فجمع بإعتبار تنوع الأعمال الموزونۃ، واللہ أعلم۔ والذی دلت علیہ السُّنَّۃ: أن میزان الأعمال لہ کفتان حسیتان مشاھدتان، روی الْإمام أحمد، من حدیث أبی عبدالرحمٰن الحبلی، قال: سمعت عبداللہ بن عمرو یقول: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ سیخلّص رجلًا من اُمّتی علٰی رؤوس الخلائق یوم القیامۃ، فینشر علیہ تسعۃ وتسعین سجلًا، کل سجل مد البصر، ثم یقول لہ: أتنکر من ھٰذا شیئًا؟ أظلمتك کتبتی الحافظون؟ قال: لَا یا رَبّ! فیقول: ألك عذر أو حسنۃ؟ فیبھت الرجل، فیقول: لَا یا رَبّ! فیقول: بلٰی! إن لك عندنا حسنۃً واحدۃً، لَا ظلم الیوم علیك، فتخرج لہ بطاقۃ فیھا: أشھد أن لَا إلٰہ إلّا اللہ، وأن محمدًا عبدہ ورسولہ، فیقول: أحضروہ، فیقول: یا رَبّ! وما ھٰذہ البطاقۃ مع ھٰذہ السجلات؟ فیقال: إنك لَا تظلم، قال: فتوضع السجلات فی کفۃ، والبطاقۃ فی کفۃ، قال فطاشت السجلات وثقلت البطاقۃ، ولَا یثقل شیء بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ ھٰكذا روی الترمذی وابن ماجۃ، وابن أبی الدنیا، من حدیث اللیث، زاد الترمذی: ولَا یثقل مع اسم اللہ شیء۔ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۴۷۲، ۴۷۳، قولہ: والمیزان، طبع المکتبۃ السلفیۃ، لَاہور پاکستان)۔
  2. (۲) عن ابن عباس قال: من استوت حسناتہ وسیآتہ کان من أصحاب الأعراف۔ (تفسیر در منثور ج:۳ ص:۸۹ طبع ایران)۔ أیضًا عن ابن مسعود قال: یحاسب الناس یوم القیامۃ، فمن کانت حسناتہ أکثر من سیئاتہ بواحدۃ دخل الجنۃ، ومن کانت سیئاتہ أکثر من حسناتہ بواحدۃ دخل النار، ثم قرأ قول اللہ:ﵟ فَمَن ثَقُلَتۡ مَوَٰزِينُهُۥ ﵞ۔۔۔ الآتین، ثم قال: إن المیزان یخف بمثقال حبۃ ویرجح، قال: ومن استوت حسناتہ وسیئاتہ کان من أصحاب الأعراف۔ (تفسیر ابن کثیر ص:۱۶ سورۃ الأعراف آیت:۴۶، ۴۷)۔
  3. (۳) قال مجاھد: الأعراف: حجاب بین الجنّۃ والنار، سور لہ باب، قال ابن جریر: والأعراف جمع عُرف، وكل مرتفع من الأرض عند العرب یسمّٰی عرفًا۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۳ ص:۱۵۹ سورۃ الأعراف آیت:۴۶، ۴۷)۔
  4. (۴) عن حذیفۃ أنہ سئل عن أصحاب الأعراف قال: فقال: ھم قوم استوت حسناتھم سیئاتھم ، فقعدت بھم سیئاتھم عن الجنۃ، وخلَّفت بھم حسناتھم عن النار، قال: فوقفوا ھناك علی السور حتّٰی لیقضی اللہ فیھم، وقد رواہ من وجہ آخر البسط من ھٰذا فقال ۔۔۔ ان حذیفۃ ذکر أصحاب الأعراف فقال: ھم قوم تجاوزت بھم حسناتھم النار، وقعدت بھم سیئاتھم عن الجنۃ، فإذا صرفت أبصارھم تلقاء أصحاب النار قالوا: ﵟ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ٤٧ ﵞ، فبیناھم كذٰلك، اطلع علیھم ربك اطلاعۃ فقال لھم: إذھبوا فادخلوا الجنۃ، فإنی قد غفرت لكم۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۳ ص:۱۶۰ سورۃ الأعراف آیت:۴۶، ۴۷ طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)۔