بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

آخرت‌کی‌جزا‌و‌سزا

قیامت‌کے‌دن‌باپ‌کے‌نام‌سے‌پکارا‌جائے‌گا‌نہ‌کہ‌ماں‌کے‌نام‌سے

سوال:۔

مؤرخہ ۲۶؍جنوری ۱۹۹۸ء کے ’’اخبارِ جہاں‘‘ میں زید نے سوال بھیجا کہ: قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے باپ کے نام سے پکارا جائے گا یا ماں کے نام سے؟ تو مفتی حسام اللہ شریفی نے جواب دیا کہ ماں کے نام سے پکارا جائے گا۔ جبکہ میں نے سنا ہے کہ باپ کے نام سے پکارا جائے گا۔ براہِ مہربانی اس کا جواب عنایت فرمائیں۔

جواب:۔

یہ مسئلہ کئی دفعہ ’’جنگ‘‘ اخبار کے ’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ میں لکھ چکا ہوں کہ لوگ اپنے باپ کے نام سے پکارے جائیں گے، چنانچہ صحیح بخاری ج:۲ ص:۹۱۲ میں ایک باب کا عنوان ہے: ’’باب یدعی الناس بآبائھم‘‘ اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کیا ہے:

’’إِنَّ الْغَادِرِ یُرْفَعُ لَہٗ لِوَاءٌ یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ یُقَالُ: ھٰذِہٖ غَدْرَۃُ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۹۱۲)

ترجمہ:۔ ’’بے شک بدعہدی کرنے والا، اس کے لئے بلند کیا جائے گا جھنڈا قیامت کے دن، کہا جائے گا کہ: یہ فلاں بن فلاں کی بدعہدی کا نشان ہے۔‘‘